صحائف وادئ قمران — Page 163
167 ترجمہ: ”ان کے ہاں ستارے اور ان کی مختلف حالتیں انسانی زندگی پر اثر انداز ہوتی ہیں۔“ صحیفہ دمشق اور دستورالعمل میں جماعت قمران کے لئے قوانین درج ہیں۔لیکن ان میں یہ بات واضح کر دی گئی ہے کہ یہ زمانہ شیطان کے غلبے کا زمانہ ہے۔مسیح کی آمد سے نئے عہد کا آغاز ہوگا اور شیطان کو شکست دی جائے گی۔اور خدا کی بادشاہت شروع ہوگی۔چنانچہ ان دونوں صحائف میں بتایا گیا ہے کہ ان میں جو بھی قوانین درج ہیں وہ اس عبوری زمانے کے لئے نیا دور آنے پر یہ قوانین ختم ہو جائیں گے۔جماعت کے ممبر سوسو پچاس پچاس اور دس دس کے گروہوں میں منقسم ہوتے تھے۔سے جماعت کا نظام کا ہنوں کے سپرد تھا۔جو نبی ہارون یا نبی صدوق کہلاتے تھے۔ہر دس ارکان پر ایک کا من مقرر ہوتا تھا۔جماعت میں یہودیوں کا ذکر کم ملتا ہے۔تاہم وہ کا ہن کا نائب ہوتا تھا۔کاہنوں کے علاوہ سپریذیڈنٹ بھی ہوتے تھے۔جو انتظامی امور اور عام نگرانی کا کام کرتے تھے۔جب کہ کاہنوں کے سپر د زیادہ تر مذہبی امور ہوتے تھے۔پوری جماعت کا انتظام چلانے کے لئے بارہ آدمیوں کی ایک کمیٹی تھی ان کے علاوہ تین کا ہن بھی اس کمیٹی میں شامل ہوتے تھے۔سے ہر رکن کو جماعت میں داخلے کے لئے دوسال کا آزمائشی عرصہ گزارنا پڑتا۔جس کے بعد وہ با قاعده ممبر بن جاتا۔بچوں کو دس سال کے لئے تعلیم دی جاتی تھی۔اس مقصد کے لئے خاص منہاج مقرر تھا۔ہمیں سال کی عمر میں وہ جماعت کی رکنیت حاصل کرنے کے قابل ہو جاتے تھے۔رکنیت سے قبل عام اجلاس میں امیدوار کی ذہانت اور دیگر اخلاقی اقدار کا امتحان لیا جاتا تھا۔رکنیت سے قبل دو سال تک وہ امیدوار کی حالت میں گزارتا تھا۔اس کے بعد ایک اور عام امتحان لیا جاتا اور پھر عام اجلاس میں ارکان کی رائے لی جاتی اور اس طرح ووٹ سے صحیفہ دمشق کالم 4 سطر 14 - ملر بروز 354۔Dead sea scrolls P سے جماعت کا دسطور کالم 1 سطر 14 س دستورالعمل کالم 8 سطر 1 ۳