صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 12 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 12

13 سے صحائف فروخت کے لئے پیش کئے۔یہ صحائف غار نمبر 4 سے حاصل ہوئے تھے۔اس غار سے حاصل ہونے والے صحائف اور ٹکڑے باقی تمام غاروں سے زیادہ ہیں۔اور ہزاروں کی تعداد میں ہیں۔حکومت اور بدؤوں دونوں نے صحائف کی دریافت کا کام جاری رکھا۔آثار قدیمہ کے وفد نے غار نمبر 5 اور غار نمبر 6 سے کچھ صحائف نکالے۔۱۹۵۳ء میں چارنئی غاریں دریافت ہوئیں ۱۹۵۶ء کے موسم بہار میں بدؤوں نے غار نمبر 11 کو کھولا اور بہت اہم صحائف نکالے۔غار نمبر 1 سے حاصل ہونے والے صحائف پر ۱۹۴۹ء میں کاربن ۱۴ کا ٹیسٹ کیا گیا۔یہ ٹیسٹ قدیم اشیاء کے زمانے کی تعین کرتا ہے۔اس سے یہ پتہ چل جاتا ہے کہ کس وقت کسی جاندار چیز کی زندگی ختم ہوئی۔اس طرح اگر چہ مقررہ سال کا پتہ نہیں لگ سکتا تاہم مناسب حدود کے اندر صحیح اندازہ حاصل ہو جاتا ہے۔چنانچہ شکاگو یونیورسٹی سے حاصل ہونے والی اطلاعات کے مطابق ان صحائف کا زمانہ ایک سوستاسٹھ (۱۷۷) قبل مسیح سے لے کر ۲۳۳ء قرار دیا گیا ہے۔محققین نے صحائف کے اس زمانہ کو صحیح تسلیم کر لیا ہے۔ان کا خیال ہے کہ وادی قمران کی غاروں سے ملنے والے صحائف یروشلم کی تباہی (۷۰-۶۸ء) کے وقت غاروں میں رکھے گئے۔وادی قمران سے سات سو میل جنوب میں مگر کافی بلندی پر وادی مربعات ہے۔محققین اس کی متعدد غاروں سے صحائف حاصل ہوئے ہیں یہ صحائف بہت بعد کے ہیں۔میں یہ نظریہ تسلیم کیا جاتا ہے کہ یہ دوسری یہودی بغاوت (۳۵- ۱۳۲ء) کے وقت غاروں میں چھپائے گئے۔یہ غاریں بہت وسیع ہیں اور رہائش کے قابل ہیں۔بلکہ ان میں انسانی رہائش کے بہت پرانے آثار بھی ملے ہیں۔ان غاروں سے بعض کا روباری مخطوط اور اسی قسم کے غیر ادبی ذاتی کاغذات بھی ملے ہیں۔ان میں سے بعض پر تاریخ تحریر بھی درج ہے۔اس لئے ان تحریرات کے زمانے کی تعین میں کوئی اختلاف پایا نہیں جاتا۔