صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 133 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 133

137 اس اختلاف کو یوں دور کیا ہے کہ ایسیوں میں دو قسم کے لوگ شامل تھے۔ایک کا ہنوں کا گروہ تھا جو شادی سے اجتناب کرتا تھا۔اور دوسرے عام ممبران ہوتے تھے۔انہیں شادی کرنے کی اجازت ہوتی تھی۔مگر راقم الحروف کے نزدیک پلینی کا بیان درست ہے۔ایک نامور مورخ کبھی بھی اتنی جرات نہیں کر سکتا کہ ایک مشہور و معروف مذہبی فرقے کی طرف ایک سراسر غلط بات منسوب کر دے جبکہ اسکو ایسا غلط بیان دینے کیلئے کوئی محرک کبھی ہمیں نظر نہیں آتا۔پلینی کے اس بیان پر دو ہزار سال تک کسی نے شک وشبہ کا اظہار نہیں کیا۔اس لئے خوامخواہ اسکے بیان کو رد کرنا عقلمندی نہیں۔اور یہ نہیں کہا جا سکتا کہ اس بیان میں اس امر کیلئے کوئی گنجائش نہیں ہے کہ بعض ایسینی شادی بھی کرتے تھے۔ان وجوہات کی بناء پر مذکورہ بالا تعلق قابل قبول نہیں۔پس اس اختلاف کو یوں دور کیا جاسکتا ہے کہ پلینی نے جس زمانے میں ایسینیوں کے بارے میں لکھا اس زمانے میں وہ شادی کے مخالف تھے اور ان میں کوئی بھی رکن شادی نہ کرتا تھا۔اور پلینی کا بیان درست ہے۔لیکن جیسا کہ صحائف کی تحریرات اور دیگر تاریخ نویسوں کے بیانات سے یہ بات پایہ ثبوت پہنچ چکی ہے یہ فرقہ بعد میں حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لایا اور انہوں نے افراط و تفریط کی راہ کو ترک کر کے جادہ مستقیم پر قدم مارا۔تب انہوں نے اسکے خلاف فطرت تعلیم کو خیر باد کہ کر شادی کرنا شروع کر دی۔فلو : پہلی صدی عیسوی کا مشہور مؤرخ فلو (Philo) (وفات 50ء) اپنی کتاب Apology for the Jews میں ایسینیوں کے بارے میں لکھتا ہے۔none of "Their organization is not based on family kinship, in which a man has no choice but on zeal for virtue and love of all men them is striving to get possession of any private property۔۔۔or any thing to get rich, for everything is put into the common pool, which supplies the wants of all alike۔" "Dwelling together in one place, they