صحائف وادئ قمران — Page 120
123 ابتداء میں مسیحیوں کو یہودیوں کا ایک فرقہ سمجھا جاتا تھا۔لیکن بعد میں جب مسیحیوں نے نئے نئے عقائد کو اپنایا۔جو پرانے عہد نامے کے سراسر خلاف تھے۔تو یہودی انہیں نفرت کی نگاہ سے دیکھنے لگے۔ہوتے ہوتے یہ نفرت دشمنی میں بدل گئی۔اور فریقین نے ان تمام کتب کو ضائع کر دیا۔جو دونوں کے باہمی ربط پر دلیل تھیں۔اور جو ان کی درمیانی کڑی کی طرح تھیں۔محقق مذکور اپنی کتاب میں لکھتے ہیں: "When the official canons and doctrines of Jew and Christian were established, in a period when each side hated the other bitterly, as the contemporary literatures of both show historically, then neither side wanted any evidence left around which would reveal that the Essene Book of Enoch was the missing link between Judaism and Christianity۔" ترجمہ: ”جیسا کہ یہود و نصاریٰ کے اس وقت کے لٹریچر سے ظاہر ہے۔جب ایسے زمانے میں دونوں گروہوں کی کتب مقدسہ کا متن اور مذہبی اصول متعین کئے گئے۔جس میں وہ ایک دوسرے سے بری طرح نفرت کرتے تھے۔تو کوئی فریق بھی نہ چاہتا تھا کہ اس بات کی کوئی شہادت باقی رہ جائے۔کہ ایسینیوں کی لکھی ہوئی " حنوک کی کتاب " عیسائیت اور یہودیت کی درمیانی گمشدہ کڑی ہے۔“ اس مقصد کے لئے کتب کو کم کرنے میں اسقدر شدت اختیار کی گئی کہ وہ کتب بھی جو کتاب مقدس کا حصہ تھیں اور الہامی قرار دی جاتی تھیں۔ٹھکانے لگادی گئیں۔چارلس فرنس لکھتے ہیں:۔" So we see today that these books, the psalms of Solomon, the Epistle of Barnabas and The last years of Jesus Revealed۔P-45