صحائف وادئ قمران — Page 119
122 that the testaments are indeed Judeo Christian editions, in part reworked, of older Essene sources۔" ترجمہ ” بہر حال اب ہم اس مقام پر ہیں کہ قمرانی انکشافات کو اس نظریے کی تائید کے لئے استعمال کریں۔کہ اناجیل در حقیقت قدیم ایسینی مآخذ کے یہودی مسیحی شمارے ہیں۔جن کے بعض حصے دوبارہ لکھے گئے۔“ صحائف قمران سے حاصل ہونے والی معلومات سے اب یہ بات ایک مسلمہ حقیقت بن چکی ہے کہ نیا عہد نامہ کلیہ یہودی پس منظر میں لکھا گیا۔اس میں جابجا ایسینی محاورات استعمال کئے گئے ہیں۔بار بار ایسینی نظریات کا ذکر کیا گیا ہے۔اور اس کی عبارتوں میں ایسینی رسوم و عبادت کی جھلک دکھائی دیتی ہے۔چارلس فرنس پاٹر اپنی کتاب میں ڈاکٹر ولیم ایف آلبرائٹ کی تقریر کا ذکر، جو انہوں نے 23 مارچ1956ء کو ہاپکنز یونیورسٹی میں کی مندرجہ ذیل الفاظ میں کرتے ہیں: "He frankly told his fellow townsmen of the very close connection in practices, ideas and even in the turns of a phrase between the people of the scrolls, the Essenes, and the early Christians, and that the background of the new testament is far more Jewish than anyone had ever guessed in print, let alone proved۔' " " ترجمہ: ”انہوں نے اپنے ساتھی شہریوں کو صحائف کی جماعت یعنی ایسینیوں اور ابتدائی مسیحیوں کی عبادات، نظریات اور محاورات کے استعمال تک میں انتہائی قریبی تعلق سے آگاہ کیا۔اور بتایا کہ نئے عہد نامے کا پس منظر اس حد تک یہودی ہے کہ ثابت کرنا تو کجا آج تک 66 کی تحریرات میں کسی کا قیاس بھی وہاں تک پرواز نہیں کر سکا۔“ The Ancient Library of Qumran۔P-118 ↓ The last years of Jesus Revealed۔P-58 1