صحائف وادئ قمران — Page 105
108 کھانے سے پر ہیز کرتے تھے۔پرہیز گاری اور انصاف کا قیام ان کا واحد مقصد تھا۔کسی کو پرہیزگاری کا نقصان نہ پہنچانا، برائی سے نفرت اور نیکی کا قیام ان کا شعار تھا۔کے اس کے بعد لکھتے ہیں۔دو محققین کا خیال ہے کہ ان تعلیمات کے پیش نظر مسیح علیہ السلام نے عمر بھر شادی نہ کی۔اور اگر چہ پولوس نے شادی کی اجازت تو دی مگر جو طاقت رکھے اس کے لئے اکیلا رہنا بہتر خیال کیا۔عیسائیوں میں عشائے ربانی (Last supper) کے موقع پر کوئی عورت موجود نہ ہوتی تھی یروشلم کے مسیحی چرچ میں عرصہ تک املاک کی اجتماعی ملکیت رائج رہی اسبات کا کوئی ثبوت نہیں ملاتا کہ مسیح علیہ السلام نے ہیکل میں عبادت میں حصہ لیا اور نہ ہی واقعہ صلیب سے قبل آپ کے حواری ایسا کرتے تھے متی کی انجیل اور جیمس کا خط دونوں قسمیں کھانے سے روکتے نہیں۔عیسائیت میں رحم کی تعلیم پائی جاتی ہے۔ہے جہاں تک مسیح علیہ السلام کے ہیکل میں عبادت کرنے کا تعلق ہے ہمیں جناب جانسن سے اتفاق نہیں کیونکہ اناجیل سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ہیکل میں عبادات بجالاتے تھے۔ان مشابہتوں کے علاوہ جو اوپر گنائی گئی ہیں مندرجہ ذیل مزید مشابہتیں صحائف قمران کی روشنی میں سامنے آتی ہیں۔1 - جماعت قمران پر بارہ یا پندرہ آدمی حکومت کرتے تھے جن میں بارہ عمومی نمائندے اور تین امیر ہوتے تھے یہ بھی ہو سکتا ہے کہ کل تعداد بارہ ہوتی ہو اور ان میں سے تین کا امیر ہونا لازمی ہو یروشلم میں عیسائیت کا ابتداء میں بالکل یہی حال تھا بارہ آدمی اس پر حاکم تھے جن کا صدر پطرس تھا۔2 صحیفہ دمشق اور دستور العمل دونوں میں ایک اہم عہدے ”عبقر ، یعنی اوور سیر کا ذکر ہے یہ لفظ بشپ کا بالکل ہم معنی ہے جماعت قمران میں اس کا کام اجلاس کی صدارت، اجتماعی Jesus in his own times۔P 24-25 1 Jesus in own times۔P-26 ✓