صحائف وادئ قمران — Page 102
105 ایسینی اور عیسائی (مشابہتیں) حضرت مسیح علیہ السلام کی بعثت کے وقت یہودی مختلف فرقوں میں بٹے ہوئے تھے۔ان میں سے اکثر ایک دوسرے سے سخت اختلاف رکھتے تھے۔مشہور فرقے فریسی، صدوقی اور ایسینی ہیں۔فریسیوں اور صدوقیوں کا ذکر نئے عہد نامے میں بار بار آتا ہے کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کی مخالفت کی اور آپ کو سخت سے سخت اذیتیں دی اور آپ کی جان کے در پے ہوئے مگر یہ بات کافی حیران کن ہے کہ ایسینیوں کا نئے عہد نامے میں کہیں ذکر نہیں۔نہ اس رنگ میں کہ انہوں نے مسیح علیہ السلام کو تسلیم کر لیا اور نہ ہی اس کے برعکس۔یہودیوں میں غالب فرقہ صدوقی تھا اور وہی ہیکل پر قابض تھے۔ان میں سے ہی کا ہن اعظم ہوتا تھا اور اسے رومن حکومت کی تائید بھی حاصل تھی۔صدوقیوں کو حکومت کی طرف سے یہ اختیار بھی تھا۔کہ وہ اندرونی معاملات کے فیصلے کرتے اور رومی گورنر کی منظوری سے انہیں نافذ بھی کرتے تھے۔صدوقیوں اور فریسیوں کا ذکر نئے عہد نامے میں تقریباً اکٹھا ہی ہمیں ملتا ہے۔لیکن ایسینیوں کے متعلق کسی قسم کی کوئی واقفیت ہمیں نئے عہد نامے سے نہیں ملتی۔البتہ اس عہد کے مورخین جوزیفس فائلو اور پلینی کی تحریروں میں انکا تفصیل سے ذکر ہے۔جیسا کہ تعارف میں بتایا جاچکا ہے۔اسبات کے پیش نظر کہ حضرت مسیح علیہ السلام نے حضرت بیٹی کی بیعت یہودیہ کے بیابان میں کی۔جہاں ایسینی فرقہ رہتا تھا۔اور وہیں آپ نے چالیس دن چلہ کشی بھی کی۔یہ کہنا ناممکن ہے کہ آپ کو ایسینیوں کے بارے میں کسی قسم کا کوئی علم نہ تھا۔پھر کیا وجہ ہے کہ آپ نے اپنی پوری زندگی میں ان کا کہیں بھی ذکر نہیں کیا۔لیکن اس میں حیرانی کی کوئی بات نہیں کیونکہ وادی قمران سے برآمد ہونے والی ایسینی تحریرات میں ایک جگہ بھی جماعت کو ایسین" نام سے یاد نہیں کیا گیا۔بلکہ ان تحریروں سے