صحائف وادئ قمران — Page 93
96 community of the new covenant commonly called the essenes, the momentous question challenging the conscience of all Christendom is whether the child will have the grace, courage and honesty to acknowledge and honor its own mother۔" (The Last Years of Jesus Revealed P۔10) ترجمہ: اب جبکہ عیسائیت کی مسلمہ ماں دریافت ہو چکی ہے کہ ”عہد جدید کی وہ سابقہ جماعت تھی جسے عموماً ایسینی کہا جاتا ہے۔نہایت اہم سوال جو ساری عیسائی دنیا کے ضمیر کو للکار رہا ہے یہ ہے کہ آیا بچہ اپنی ماں کے احسان کا حق ادا کرنے اور اس کا احترام قائم کرنے کے لئے رحم ، جرات اور دیانت کا اظہار کرتا ہے یا نہیں۔“ جہاں تک مسیح علیہ السلام کی یگانگت کا سوال ہے۔اب یہ نظریہ ختم ہو رہا اور عیسائیوں کے دلوں میں آپ کیلئے اتنا احترام بھی نظر نہیں آتا جو دیگر انبیاء کے لئے ان کے دلوں میں پایا جاتا ہے۔چنانچہ ” جیمس اے پائیک“ جو ریاست کیلیفورنیا کے رومن کیتھولک چرچ کے بشپ ہیں لکھتے ہیں: Jesus world view was that of his time۔The concept of kingdom of God which be stressed was that introduced into Judaism in the fifth century B۔C۔, under Zar asterian in fluence۔He was influenced by the teaching of the Essenes as is growing more and more evident with the availability of translations of the Dead Sea Scrolls۔" (A Time for Christian Candaur P۔109) ترجمہ کائنات کے متعلق مسیح کے نظریات بھی اسکے زمانے کے مطابق تھے خدا کی بادشاہت کا نظریہ بھی جس پر اس نے بہت زور دیا بالکل وہی تھا جو پانچویں صدی قبل مسیح میں