صحائف وادئ قمران — Page 57
58 ترجمہ: ڈاکٹر اے پاول ڈیوس نے کہا کہ یہ تجویز بڑی دلکش ہے۔پچاس سال بعد ہمارے موجودہ علمائے عہد نامہ جدید میں سے کوئی بھی شعبہ تدریس میں نہ رہے گا اور وہ بحیرہ مردار کے صحائف کے مسائل آسانی سے اپنے بدقسمت جانشینوں کے سپرد کر دیں گے۔“ یہ تو ایک ذوقی بات تھی۔اصل بات ہم یہ بیان کر رہے تھے کہ بعض اہم تحریرات کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔آپ کو یاد ہوگا کہ صحائف کے قطعات حاصل کرنے کے لئے کس قدر انسانی محنت صرف کرنا پڑی اور کس طرح صحائف خریدنے کیلئے بڑی بڑی رقوم پانی کی طرح بہا دی گئی ہیں۔یہ بات انسان کو چونکا دینے والی ہے کہ اس عظیم دریافت پر چوبیس سا ل گزر جانے کے باوجود صحائف کے قطعات کو گنا تک نہیں گیا۔ولسن لکھتے ہیں: "The tens of thousands of framents there has been no attempt to count them - have been put away in boxes۔"✓ ترجمہ لاکھوں قطعات جن کو شمار کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی گئی ڈبوں میں بند کر دئے گئے ہیں۔اندھیر ہے۔صریح ظلم ہے۔غفلت کی انتہا ہے۔تعصب کی معراج ہے۔سراسر ہٹ دھرمی ہے۔اگر محققین جو صحائف پر کام کر رہے ہیں انکی ٹیم کی کارکردگی کا یہی حال ہے تو عوام کا سارا روپیہ ضائع کیا جارہا ہے۔جن محققین کے نزدیک صحائف کی اتنی قیمت بھی نہیں کہ ان کی گفتی کر لی جائے تا کہ کوئی ضائع نہ ہو ان سے اس چیز کی توقع کرنا کہ وہ صحائف کو حل کرتے وقت دیانتداری سے کام لیتے ہوں گے بیوقوفی ہے۔نادانی ہے۔اُن کو کرسیاں سنبھالے ہوئے چوبیس سال ہوئے ہیں جدید ترین سائنسی آلات انہیں میسر ہیں ہر طرح کے ضروری ساز و سامان سے لیس علیحدہ عجائب گھر ان کو دیا گیا ہے۔اُن کے جسم وروح کو سکون پہنچانے کیلئے ہر قسم کی آسائش کا سامان مہیا کیا گیا ہے۔کمروں کی زیبائش میں کسی قسم کی کمی نہیں کی گئی عجائب گھر کو آرام دہ بنانے کے لئے جدید ترین سہولتیں بہم پہنچائی گئی ہیں یہ آخر The dead sea scrolls (1947-69) P-108