صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 3 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 3

4 مطابق کلام الہی نازل ہوتا رہا۔ایک طرف خدا کے رحم کو ظاہر کرنے کیلئے اسے باپ کہا گیا تو دوسری طرف اس کی طاقت اور غلبے کو ذہن نشین کرانے کیلئے اس کو شہنشاہ قرار دیا گیا۔کبھی اس کی بلندشان کے اظہار کیلئے اسے آقا کہا گیا اور انبیاء کے اس کے ساتھ شدید تعلق کو ظاہر کرنے کیلئے انہیں خدا کے بیٹے کہ کر پکارا گیا اور کبھی انہیں خدا کے پہلوان کہا گیا۔لیکن جب نور نبوت سے بعد کے باعث دلوں میں تاریکی گھر کر لیتی ہے۔تو لوگ ان الفاظ کو حقیقی معنے پہنانے لگتے ہیں اور انبیاء کو خدا وند تعالی کے حقیقی بیٹے خیال کرنے لگتے ہیں۔آخر وہ وقت بھی آگیا۔جب ذہن انسانی ترقی کے مراحل طے کرتا کرتا اپنے کمال کو پہنچا تو اللہ تعالیٰ نے عرب کی سرزمین سے اپنے کامل بندے کو چنا اور اسے تمام اقوام کے لئے ایک ہی شریعت عطا کی۔جو ہر لحاظ سے کامل اور خداوند تعالیٰ کی خالص اور لفظی وحی پر مشتمل تھی۔حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام دنیا کے لوگوں کو تو حید کی طرف بلایا۔اور حقیقی تو حید کو دنیا میں پھیلایا۔آپ نے توحید الہی کے پھیلانے کے لئے اس قدر پر زور دلائل دیئے کہ چند ہی سالوں میں تمام دنیا پر توحید کا پرچم لہرانے لگا۔چنانچہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ وہ اقوام بھی توحید کی دعویدار ہیں جن کی کتب مقدسہ انسانی دستبرد کے نتیجے میں شرک کا سر چشمہ بن چکی ہیں۔اس روشنی کے زمانے میں نصاری کے سوا کوئی قوم ایسی نظر نہیں آتی جو اپنے نبی کو خدائی کے تخت پر بٹھاتی ہو۔کیونکہ آج عقل انسانی ترقی کے اس مرحلے پر پہنچ چکی ہے کہ کسی بھی طرح شرک کو قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔عیسائی اقوام اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ جس زبان سے مسیح کو خدا کہتے ہیں اسی زبان سے توحید کا اقرار کرتے ہیں۔لیکن جب اس پر گرفت کی جاتی ہے۔تو عوام کو یہ کہہ کر دھوکہ دیتے ہیں کہ یہ فلسفہ انسانی ذہن میں سانہیں سکتا۔باطل کے اس غلبے کو توڑنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک عظیم الشان روحانی فرزند کا وعدہ فرمایا تھا۔جو قادیان میں ظاہر ہوا آپکا نام حضرت مرزا