صحائف وادئ قمران — Page 53
54 ملی ہے جواس وجہ سے مخفی رکھی جارہی ہے اگر چہ جبکہ اوپر والے بیان کے مطابق یہ بلاشبہ صحیح ہے کہ کیتھولکس نے صحائف میں خصوصی توجہ مرکوز کرنا ضروری خیال کیا تاہم میں یہ یقین کرنے کی کوئی وجہ نہیں پاتا کہ ان تحریرات میں سے کوئی دبادی گئی ہے یا اس کے دبائے جانے کا امکان ہے۔جناب ولسن کے اس بیان کو سمجھنے کے لئے جان ایگرو کا ذکر کرنا ضروری ہے۔آپ آزاد خیال محقق ہیں۔صحائف فنڈ کے سیکرٹری بھی ہیں اور اس ضمن میں دیگر کئی ذمہ داریاں سنبھالے ہوئے ہیں۔عبرانی کے جواں سال ماہر کئی سال سے صحائف پر کام کرنے والی ٹیم کے رکن ہیں۔حکومت اردن کے صحائف کے لئے اعزازی مشیر اور مانچسٹر یونیورسٹی میں پرانے عہد نامے اور متعلقہ علوم کے پروفیسر ہیں انہوں نے اپنے مضامین ، تقاریر ، نشریات اور کتب میں عیسائی اور ایسینی مشابہتوں پر زور دیا۔بی۔بی سی کی ایک نشری تقریر میں انہوں نے تفسیر ناحوم کی روشنی میں یہ ثابت کیا کہ استاد صادق صلیب پر لٹکائے گئے۔اس موضوع پر مشہور رسالے ٹائم میں انہوں نے ایک مضمون بھی رقم کیا۔بعد کے حالات ولسن کی زبانی سنئے۔"This article had the result of arousing Pere Roland de Vaux to write a letter to the London times declaring that there was nothing whatever in any of the documents so far deciphered which would indicate that the teacher of Righteousness had been crucified۔" (The Dead Sea Scrolls 1947-69 P۔164) ترجمہ اس مضمون کے نتیجے میں پیری رولینڈ ڈی واکس کولندن ٹائمنز کو ایک مراسلہ بھیجنے کی تحریک ہوئی جس میں انہوں نے اعلان کیا کہ ان تحریرات میں جواب تک حل کی جاچکی ہیں اس قسم کی کوئی چیز نہیں ہے۔جو ظاہر کرے کہ استاد صادق کو صلیب پر لٹکایا گیا۔