صحائف وادئ قمران — Page 47
48 غاروں سے حاصل ہونے والے صحائف غلطیوں کی کثرت کی وجہ سے فضول قرار دے کر جنیزہ میں جمع کرادی گئی تھیں۔اس لئے ان کی شہادت قابل قبول نہیں۔نہ ھی انہیں زیادہ اہمیت دینے کی ضرورت ہے۔ایچ ای ڈیل میڈیکو لکھتے ہیں: "As these results become known theories began to pile up۔Professor Sukenik had spoken of apocryphal works (Magilloth Genuzoth) and of a Jewish geniza۔He had seen and quite rightly, that these were only discarded rolls and he had the proof of it۔" ترجمہ: جب (اس دریافت کے ) نتائج لوگوں میں پھیلے تو نظریات کے ڈھیر لگنے شروع ہوئے۔پروفیسر سیکنک نے غیر مستند تصانیف اور ایک یہودی جیزہ کا ذکر کیا۔اس کا خیال تھا اور یہ صیح بھی ہے کہ کہ یہ متروک طومار ہیں۔اور اس کے پاس اس کا ثبوت بھی تھا۔ان مخالف حالات میں صحائف کا متن شائع ہوتا رہا۔ادھر کھنڈرات اور قبرستان کی کھدائی سے زمانے کی تعیین ہو گئی۔صحائف کے مضامین نے خود بتا دیا کہ ایسینی کاہنوں کے ہاتھ سے نکلے ہیں۔اس زمانے کی تاریخ سے ایسینی نظریے کے حق میں ناقابل تردید ثبوت مہیا ہو گئے چنانچہ صحائف کو آہستہ آہستہ ان کا حقیقی مقام دیا جانے لگا۔اور وہی صحائف جنہیں کانڈو نے محض میں پونڈ میں خریدنے سے انکار کر دیا تھا۔اڑھائی لاکھ ڈالر ادا کر کے خرید لئے گئے۔انہیں اس زمانہ کی سب سے بڑی دریافت ہونے کے علاوہ عیسائیت کے لئے نظریہ ارتقاء کے بعد سب سے بڑا خطرہ قرار دیا گیا۔اور متعصب علماء کی زبان ، قلم پر بھی اس قسم کے کلمات جاری ہوئے : "That the scrolls are of importance for the study of the New Testament has been recognized from the start, and increasingly as The dead sea scrolls P-22