صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 45 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 45

46 راسخ العقیدہ یہودی اور عیسائی محققین کی سرد مہری کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ آزاد مشرب محققین نے اس میدان کو سنبھالا اور صحائف پر کام کرنا شروع کیا۔مقالہ نگار ولسن ان کی خدمات کا ذکر ان الفاظ میں کرتا ہے۔"It is precisely the more liberal scholar in Britain and the United State who have been most reluctant to deal with the scrolls, for the reason that these liberals tend to assume that the doctrines known as Christian were not really formulated till several generations after Jesus death"۔(The Dead Sea Scrolls 1947-69 P۔99) ترجمہ: یہ محض آزاد متقین ہی ہیں جنہوں نے برطانیہ اور ریاستہائے متحدہ (امریکہ) سے انتہائی خوش دلی سے کام کیا کیونکہ وہ یہ مسلک اختیار کرنا چاہتے ہیں کہ وہ تمام عقائد جواب مسیحی کہلاتے ہیں در حقیقت یسوع کی وفات کے بعد کئی نسلیں گزر جانے پر گھڑے گئے" آزاد محققین کی کوشش سے جب صحائف کے مضامین عوام کے سامنے آنے شروع ہوئے۔اور لوگوں میں طرح طرح کے نظریات پھیل گئے۔جو عیسائیت اور یہودیت دونوں کے لئے تباہ کن تھے۔نیز ان مضامین نے صحائف کا زمانہ بھی لوگوں پر ظاہر کر دیا تو دونوں مذاہب کے راسخ العقیدہ علماء ان نظریات کی تردید کے لئے آگے بڑھے۔طر بروز ان حالات کا نقشہ مندرجہ ذیل الفاظ میں کھینچتے ہیں:۔”جب ڈوپنٹ سومر نے یہ نظریہ پیش کیا کہ مسیح علیہ السلام استاد صادق کا حیران کن اوتار دکھائی دیتے ہیں تو علماء کی طرف سے ان پر زبر دست حملہ کیا گیا۔“ ان حملوں سے عیسائیوں کا مقصد تحقیق حق کی بجائے مسیح اور نئے عہد نامے کی The dead sea scrolls (1947-69) P-57