صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 38 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 38

39 صحائف کو لکھنے اور غاروں میں محفوظ کرنے والی یہی جماعت تھی۔جو قبرستان میں مدفون ہے۔عام طور پر اس زمانہ کی قبروں سے کتبات یا زیورات بھی برآمد ہوئے ہیں۔لیکن محققین کے لئے یہ بات حیران کن ہے۔کہ ان قبروں سے خلاف توقع کسی قسم کے زیورات، کتبات یا تحائف وغیرہ بالکل نہیں ملے۔اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ یہ الہی جماعت ہرقسم کی غلط رسوم سے پاک خالص توحید پر قائم تھی۔اور ایک نبی کے انفاس قدسیہ نے انہیں تمام نفسانی خواہشات سے بالا اور ہر قسم کے علائق دنیوی سے بے نیاز کر دیا تھا۔تین قسم کے قبرستانوں میں سے ایک میں محض مردوں اور دوسرے میں محض عورتوں اور بچوں اور تیسرے میں مردوں اور عورتوں کو ملا کر دفن کرنے سے محققین کی اکثریت اس رائے پر قائم ہے کہ بڑا قبرستان ایسے مردوں کے لئے مخصوص تھا۔جو راھب یا کا ہن ہوتے تھے اور شادی سے اجتناب کرتے تھے۔لیکن ایک طبقہ گھریلو زندگی گزارتا تھا۔اس کے باوجود جماعت میں شامل تھا۔تا ہم یہ طبقہ کا ہنوں میں شمار نہ ہوتا تھا۔لیکن میرے نزدیک حضرت مسیح علیہ السلام پر ایمان لانے سے قبل تمام ممبران شادی سے اجتناب کرتے تھے۔لیکن بعد میں دیگر غلط عقائد کے ساتھ انہوں نے اس خلاف فطرت تعلیم کو بھی خیر باد کہہ دیا۔اور ان میں شادی کا رواج عام ہو گیا۔یہ بھی قرین قیاس ہے کہ اس کے بعد بھی کاہنوں کے لئے مجرد رہنا ضروری ہو۔کیونکہ بعد کی عیسائت میں بھی یہ رسم جاری رہی۔پروفیسر سکینک نے غار اول کے متعلق یہ نظریہ پیش کیا تھا کہ وہ جنیزہ (Geniza) یعنی " دفینہ صحائف ہے۔ایچ۔ای۔ڈیل میڈیکو پروفیسر موصوف کی وفات کے بعد اس نظرئیے کو ابھی تک زندہ رکھے ہوئے ہیں۔اور اس کی حمایت میں ایک مبسوط کتاب لکھ چکے ہیں۔جیز " اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں مقدس کتاب کو متن میں کثرت اغلاط یا کثرت استعمال سے چمڑہ پھٹ جانے کے بعد نا قابل استعمال ہونے کے باعث رکھ دیا جاتا تھا۔کیونکہ ان کتب میں اللہ تعالیٰ کا نام درج ہوتا ہے۔اس لئے ان کو جلانا یا اور کسی طریق سے ضائع کرنا ممنوع سمجھا جاتا تھا۔اگر چہ ڈیل میڈیکو نے اپنے طریق کی تائید میں پر زور دلائل