صحائف وادئ قمران — Page 35
36 کونے میں دو اور کمرے ہیں۔ایک کمرہ بالکل کونے میں ہے۔اور دوسرا اصل عمارت سے باہر ہے۔عمارت کی مغربی جانب کھدائی کے دوران ایک کنویں کے آثار بھی ملے ہیں۔یہ آثار پہلی کھدائی کے نتیجے میں ظاہر ہوئے تھے جو نومبر دسمبر 1951ء میں کی گئی۔محققین کا خیال ہے کہ عمارات کا یہ حصہ پہلی صدی قبل مسیح کے شروع یا دوسری صدی قبل مسیح کے آخر میں تعمیر کیا گیا تھا۔یہ عمارت بالکل سادہ تھی۔اس کے بعد چار مختلف اوقات میں کھنڈرات کی کھدائی کا کام مکمل کیا گیا۔اور بہت سی نئی تعمیرات سامنے آئیں۔اور مارچ 1954 ء میں کھدائی کا کام پایہ تکمیل کو پہنچا۔ان تعمیرات میں سے سب سے اہم عمارت ایک مینار کو خیال کیا جاتا ہے یہ مظبوط مینار عمارت کے شمال مغربی کونے میں تھا۔اس کی دیوار میں چارفٹ موٹی ہیں۔مینار کے مشرق میں باورچی خانہ ہے جس میں کئی چولہے ابھی تک قائم ہیں۔ہال کے مغرب اور مینار کے جنوب میں بہت سے کمرے ہیں۔ان کے مشرق میں ایک لمبا کمرہ ہے جو ہال سے جاملتا ہے۔اس کے اوپر دوسری منزل میں اسی قسم کا ایک اور کمرہ ہے۔جسکی دیواروں کے ساتھ بیچ بنا ہوا ہے۔کمرے میں صحائف لکھے جاتے تھے۔یہ وہی کمرہ ہے۔اس کمرے میں 17 لمبی فٹ ایک میز بھی تھی۔اسی سے رومی عہد کی دو دوا تیں بھی ملی ہیں۔ایک دوات پیتل کی اور دوسری مٹی کی بنی ہوئی ہے۔ان میں اب تک سیاہی موجود ہے۔یہ سب چیزیں نچلے کمرے کی گری ہوئی چھت پر سے ملی ہیں۔مینار کے پاس چھوٹا سا صحن ہے۔یہ ہال کے شمال میں ہے۔ہال کی چھت کو سہارا دینے کی غرض سے چارستون بنائے گئے تھے۔خیال ہے کہ اس ہال میں ایسینیوں کے اجلاس ہوتے تھے۔تمام جماعت کتاب مقدس کے مطالعے کے لئے یہاں جمع ہوتی تھی اور یہ کمرہ عبادت اور کھانے کے کام بھی آتا تھا۔ٹوٹے ہوئے برتن اس کے ایک کونے سے ملے ہیں۔اس سے مغرب میں ایک چھوٹا سا کمرہ ہے۔اس میں ایک ہزار سے زیادہ برتن قرینے سے رکھے تھے۔پکانے کے بعد تقسیم کے لئے کھانا اس کمرے میں رکھا جاتا تھا۔صحن کی مشرقی جانب پانی کا تالاب ہے نہانے اور کپڑے دھونے کی جگہ اور بیت الخلا ہیں۔