صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 190 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 190

195 ملتا ہے۔وہ واقعہ صلیب کے بعد کی تحریرات ہیں۔چونکہ اس واقعہ کے بعد مسیح نام سے آپکا ذکر کیا جانا سخت خطرے کا باعث تھا۔اس لئے استاد صادق کے صفاتی نام کے تحت آپ کا ذکر کیا جاتا رہا۔اس کے باوجود احتیاط کا پہلو مد نظر رکھا گیا۔اور تلمیحات اور مخفی اشارات آپ کے ذکر پر غالب رہے۔ان وجوہات کی بناء پر کیمبرج کے ڈاکٹر ٹیٹر نے یہ نظریہ پیش کیا کہ استاد صادق در اصل مسیح ہی ہیں۔چنانچہ انچ ایچ رولے لکھتے ہیں۔ڈاکٹر جے ایل ٹیٹر نے اپنے سلسلہ مضامین میں ثابت کیا ہے کہ جماعت قمران سے مراد ابیونی عیسائی ہیں۔یعنی ( پہلی صدی کے موحد ) یہودی مسیحی اور صادق استاد سے مراد یسوع مسیح ہیں۔۔۔۔۔آپ نے حال ہی میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کے نظریہ کی تائید صحیفہ قمران کے ایک ایسے ورق سے بھی ہوتی ہے۔جس میں یسوع کا نام آیا ہے۔“ بحوالہ صحائف قمران از شیخ عبدالقادر صاحب لاہور صفحہ 49 (The Dead Sea Scrolls from Qumran) مکرم شیخ عبدالقادر صاحب آگے چل کر لکھتے ہیں۔ڈاکٹر ہے۔ایل ٹیٹر نے 21 مارچ 1958 ء کے لنڈن ٹائمز کے لٹریری سپلیمنٹ میں ایک طویل مقالہ سپرد قلم کیا۔جس میں انہوں نے ثابت کیا کہ یشوعا کے نام کی تحریرات ابھی پورے طور پر شائع نہیں ہوئیں۔چند سطور جو شائع شدہ موجود ہیں۔وہ اپنے سٹائل اور مضمون کے لحاظ سے انجیل کے مشابہ ہیں۔اس حصہ میں واضح طور پر Anti-Christ یعنی مسیح الدجال کی پیشگوئی موجود ہے۔جو کہ انجیل میں بھی درج ہے۔لہذا یشوع بن نون سے ان صحائف کا کوئی تعلق نہیں۔یشوع سے مراد یہاں یسوع ناصری ہیں۔یشوعا کے زبوروں کے متعلق ڈاکٹر موصوف لکھتے ہیں کہ یہ انجیل قمران کا حصہ ہیں۔ہے اس نظریے کی حمائت میں اب دیگر محققین بھی کتب شائع کر رہے ہیں۔ملر بروز اپنی بحوالہ صحائف قمران صفحه 53 Loo