صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 169 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 169

174 ا گیا ہے۔استاد کی زندگی کے واقعات اور اس کی تعلیمات کے علاوہ اسکے زمانے اور جائے رہائش میں یگانگت نے بہت سے محققین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ ہو نہ ہو حضرت مسیح علیہ اسلام ہی استاد صادق ہوں۔اور جو لوگ عیسائیوں کے خوف سے یہ بات کھلم کھلا کہنے کی جرات نہیں کر سکتے وہ بھی اتنا تو ضرور کہتے ہیں مسیح علیہ السلام اور استاد صادق میں حیران کن مشابہت ہے۔اور اکثر محققین یہاں آکر اپنے مذہبی جذبات پر قابو نہیں پاسکتے اور اپنے عقائد کو بچانے کے لئے عجیب و غریب دلائل دیگر یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ حضرت مسیح اور استاد صادق میں بعض مشابہتوں کے علاوہ شدید اختلاف بھی ہیں۔جو اختلافات وہ یہاں پر گنواتے ہیں۔وہ بھی دیکھنے کے قابل ہیں۔اور اپنے موقعہ پر قارئین کے سامنے رکھے جائیں گے۔یہاں ہم صرف یہ کہنا چاہتے ہیں کہ حضرت مسیح علیہ السلام اللہ تعالیٰ کے ایک رسول تھے۔اور آپ کا مشن بنی اسرائیل کو تبلیغ کرنا تھا۔جب کہ ابتدائے آفرینش سے ہوتا چلا آیا ہے اللہ تعالیٰ انسانوں میں سے کامل وجودوں کو بنی نوع انسان کی ہدائت چنتا اور اپنا کلام ان کے منہ میں ڈالتا ہے لیکن اس کے باوجود وہ انسان ہی رہتے ہیں ان میں انسانوں والے جذبات و احساسات ہوتے ہیں۔اور ان پر قانون قدرت کی وہ تمام پابندیاں عائد ہوتی ہیں جو عام انسانوں پر ہوتی ہیں۔صرف اس وجہ سے کہ اللہ تعالیٰ ان سے کلام کرتا ہے۔ان کو خدا بنا لینا اور ان کی پرستش شروع کر دینا اور مافوق الفطرت قوی ان کی طرف منسوب کر دینا، کسی طرح بھی روا نہیں۔پس حضرت مسیح علیہ السلام بھی انسانوں میں سے نبی بنے تھے آپ نے بار بار انجیل میں اپنے آپ کو ابن آدم کہہ کر یہ بات اپنے متبعین کو واضح کر دی۔بلکہ ، بعض اوقات اپنے آپ کو تیری باندی کا بیٹا بھی فرمایا۔اگر عیسائی محققین اپنے غلط عقائد کو چھوڑ کر جو بعد میں انہوں نے اختیار کئے استاد صادق کی زندگی پر غور کریں تو بڑی آسانی سے یہ بات ان کو سمجھ آسکتی ہے کہ در حقیقت حضرت مسیح علیہ السلام ہی استاد صادق ہیں اس طرح صحائف کے عقیدے کو ادا کرنا کوئی مشکل نہیں رہتا بلکہ آزاد محققین کے ایک گروہ کو اللہ تعالیٰ نے بصیرت عطا فرمائی ہے۔اور انہوں نے اس حقیقت کو پالیا ہے۔دیگر محققین بھی اگر مسیح کی