صحائف وادئ قمران — Page 140
144 وادی قمران بریجو کے بالکل قریب ہے۔پس قرین قیاس ہے کہ وہ ایسینی تحریرات تھیں۔نویں صدی کی اور موجودہ دریافت میں گڈریے کا تو اردو بھی عجیب ہے۔نویں صدی کے ایک یہودی مؤرخ قرقانی نے لکھا ہے کہ مغاریہ نامی ایک یہودی فرقہ حضرت مسیح کے زمانے میں موجود تھا۔ان کے صحائف چونکہ غاروں میں سے ملے۔اس لئے ان کو یہ نام دیا گیا۔بہت سے محققین کا خیال ہے کہ یہ صحائف ایسینیوں کے تھے۔انہیں مغاریہ اس لئے کہا گیا کہ اس زمانے کے علماء ان کی صحیح شناخت نہ کر سکے۔(The Dead Sea Scrols by Millar Burrouss P۔265) یہودیوں کے اس فرقہ مغاریہ کا ذکر مسلمان مؤرخین البیرونی اور شہرستانی کے ہاں بھی ملتا ہے۔وہ کہتے ہیں کہ یہ فرقہ پہلی صدی قبل مسیح میں ابھرا اور ان کا کیلنڈر مروجہ یہودی کیلنڈر سے مختلف تھا۔(The Dead Sea Scrolls by J۔M۔Allegro P۔166) ایسینی صحائف کی روشنی میں:۔تاریخ کے آئینہ میں ایسینی فرقے کو دیکھنے کے بعد اب ہم صحائف کی روشنی میں جماعت قمران کی تعین کے لئے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔چنانچہ ہمیں مندرجہ ذیل معلومات صحائف سے حاصل ہوتی ہیں۔پہلی صدی عیسوی کی ایک کتاب ”صعود موسی‘ ملی ہے۔اس کتاب کے متعلق یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ جماعت قمران کے کسی عالم کی تصنیف ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ صحائف کو لکھ کر محفوظ کرنا جماعت کے بنیادی فرائض میں شامل تھا۔اس مقصد کے لئے جماعت کو مدایت تھی کہ صحائف کو مقدس تیل سے ممسوح کریں اور پھر مٹی کے برتنوں میں بند کر کے مخصوص غاروں میں چھپا دیں۔چنانچہ اس کتاب میں لکھا ہے۔یہ تحریر تم وصول کر لو۔انہیں کیسے محفوظ کرنا ہے۔پہلے انہیں ایک ترتیب سے رکھو اور قیدار کا مقدس تیل ان کو لگاؤ۔ظروف گل میں ان کو بند کر کے ایسی جگہ چھپاؤ جسے خدا تعالی