صحائف وادئ قمران

by Other Authors

Page 8 of 200

صحائف وادئ قمران — Page 8

9 یح کا گنبد نظر آنے لگتا ہے۔یہاں سے جنوب کی طرف بکھیرہ مردار کا بھاری اور کڑوا پانی ہے۔جسم انسانی اس میں غرق ہونے کے بعد وہیں اٹک جاتا ہے۔اگر چہ یہ بھیرہ لہریں نہ ہونے کے باعث بالکل خاموش ہے۔تاہم مختلف رنگوں کے ملے جلے مناظر کے علاوہ تاریکی اور نور کا حسین امتزاج شائقین کے سامنے پیش کرتا ہے۔جب ہلکی ہلکی ہوا چل رہی ہو تو اسکا کڑوا پانی لہروں پر اپنا سر پٹختا ہوا ایک خوشکن ساز پیدا کرتا ہے۔سمندر کے مغربی ساحل کے ساتھ ایک میل چلنے کے بعد عین جدی کا علاقہ شروع ہوتا ہے۔یہاں حضرت داؤد علیہ السلام شاہ سائل کی فوجوں سے کئی ماہ چھپے رہے۔شاہ ساؤل آپ کی تلاش میں تین ہزار مسلح سپاہیوں کو لے کر نکلا۔اور آرام کرنے کے لئے اسی غار میں داخل ہو گیا جہاں حضرت داؤد علیہ السلام اپنے ساتھیوں کے ساتھ اس کی تاک میں تھے لے یہاں سے دائیں جانب کچھ فاصلے پر 100 فٹ اونچا چونے کے پتھر کا ٹیلہ ہے۔اس کی چوٹی سطح سمندر سے کوئی زیادہ بلند نہیں اس جگہ سلسلہ کوہ سمندر سے ہم آغوش ہونے کے لئے آہستہ آہستہ اس کے قریب آتا جاتا ہے۔یہ علاقہ قدرتی غاروں سے اٹا پڑا ہے۔ذرا آگے وادی قمران ہے۔وادی سے ۴۰۰ فٹ کی بلندی پر خربت ہے۔ان کھنڈرات سے چند سو گز آگے وہ معروف غار ہے۔جو اس زمانے کی عظیم الشان دریافت کو میں صدیوں سے اپنے پیٹ میں چھپائے ہوئے تھی۔یہ غاراب غار نمبر 1 کہلاتی ہے۔مشہور کوہ نیوہ انہی پہاڑوں میں ہے۔اس پہاڑ پر چڑھ کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے موعود سرزمین کا نظارہ کیا تھا۔اور اسی وادی کے متعلق آپ نے فرمایا تھا۔اور ایسے وسیع اور ہولناک بیابان میں تیرار ہبر ہوا جہاں جلانے والے سانپ اور بچھو تھے۔اور جہاں کی زمین بغیر پانی کے سوکھی پڑی تھی۔۲ بحیرہ مردار کے پانی میں مچھلیاں نہیں ہیں۔سطح سمندر سے اس قدر گہرائی میں جا کر استثناء 8/15 1 سموئل 24/2