دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ

by Other Authors

Page 8 of 39

دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 8

8 سے چند باتیں کہہ لوں۔مگر ابو بکڑ نے کہا نہیں میں آپ کو خدا کی قسم دے کر کہتا ہوں کہ آپ مجھے اور بات نہ بتائیں مجھے صرف یہ بتائیں کہ کیا آپ نے یہ کہا ہے کہ خدا کے فرشتے مجھ پر نازل ہوتے ہیں؟ جب انہوں نے آپ کو اللہ تعالیٰ کی قسم دی اور اصرار کیا کہ مجھے کوئی اور بات نہ بتائی جائے صرف میری بات کا جواب دیا جائے تو حضرت رسول کریم عملے کے لئے اور کوئی چارہ نہ رہا اور آپ نے فرمایا ابو بکر ٹھیک ہے میں نے کہا ہے کہ خدا کے فرشتے مجھ پر نازل ہوتے ہیں اور مجھ سے باتیں کرتے ہیں اس بات کو سنتے ہی حضرت ابو بکر نے کہا پھر آپ گواہ رہیں کہ میں آپ پر ایمان لاتا ہوں ابتدا میں بیعت کا طریق یہ تھا کہ مرد حضور کے ہاتھ میں ہاتھ دے کر اقرار کرتے کہ خدا کو ایک یقین کروں گا کسی قسم کا شرک نہیں کروں گا ہر قسم کے بُرے فعل مثلاً چوری، زنا، قتل جھوٹ سے پر ہیز کروں گا۔کسی پر بہتان نہ باندھوں گا" بخاری کتاب الاحکام باب بیعت النساء ( تفسیر کبیر جلد دہم صفحه ۱۱۱) آنحضرت ﷺ کے گھر رہنے والے دس گیارہ سال کے معصوم بچے علی کو علم ہوا کہ بڑے بھائی پر خدا تعالیٰ کا فرشتہ نازل ہوا ہے جو ایک خدا کی تعلیم لایا ہے تو بڑی معصومیت اور سچائی سے اس بات کو تسلیم کر لیا۔اس طرح پہلا مسلمان بچہ ہونے کا شرف حاصل کر لیا۔اس پیارے بچے کو یہ فضیلت بھی حاصل ہے کہ جب شروع شروع میں نماز سکھائی گئی تو آپ اسے ساتھ لے کر نماز پڑھتے۔کبھی کبھی لوگوں سے چھپ کر کسی پہاڑ کی کھائی میں نماز ادا فرماتے ایک دفعہ آپ دونوں سب سے علیحدہ چھپ کر نماز پڑھ رہے تھے کہ کسی نے ابو طالب کو اطلاع کر دی۔ابوطالب