دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 38
38 آپ کے گھر میں ارد گرد کے گھروں سے متواتر پھر پھینکے جاتے۔باورچی خانہ میں گندی چیزیں پھینکی جاتی تھیں جن میں بکریوں اور اونوں کی انتڑیاں بھی شامل ہوتی تھیں۔جب آپ نماز پڑھتے تو آپ کے اوپر گر دو غبار ڈالی جاتی حتی کہ مجبور ہو کر آپ کو چٹان میں سے نکلے ہوئے پتھر کے نیچے چھپ کر نماز پڑھنی پڑتی مگر اس کے باوجود آپ خدائے واحد کا نام بلند کرتے چلے گئے اور ان لوگوں کی ہدایت کے لئے اللہ تعالیٰ سے دعائیں بھی کرتے رہے۔( تفسیر کبیر جلد ہفتم صفحه ۶۳ تا ۶۵) آپ بڑے عمل اور برداشت سے مسلمانوں کو صبر کی تلقین فرماتے۔آپ کا قول تھا إِنِّي أُمِرْتُ بِالْعَفُو - فَلا تُقَاتِلُوا مجھے اللہ تعالی نے عضو کا حکم دیا ہے میں تم کو لڑنے کی اجازت نہیں دے سکتا۔(نسائی بحوالہ تلخیص الصحاح جلد اول صفحہ ۱۵۲) آپ نے بڑے صبر و قتل سے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھا۔ہمارے پیارے آقا ( ہمارے ماں باپ اور ہماری جانیں آپ پر فدا ہوں) نے یہ دُکھ اس لئے اُٹھائے کہ زیادہ سے زیادہ انسانوں کو اپنے خدا کے سامنے جھکا دیں تا کہ وہ اس دنیا میں بھی سکھی رہیں اور آخرت میں بھی جہنم کی آگ سے بیچ کر اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی جنت حاصل کر سکیں۔ہمیں بھی اسی جذبے سے دعوت الی اللہ کا کام جاری رکھنا چاہیئے۔کوئی تکلیف آئے تو یہ سوچ لیں کہ ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم سے کہیں زیادہ دُکھ برداشت کئے تھے۔گالیاں سن کے دعا دو پا کے دیکھ آرام دو مبر کی عادت جو دیکھو تم دکھاؤ انکسار اللهم صل على محمد و علی آل محمد و بارک وسلم انک حمید مجید