دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 34
34 جب یہ وفد نا کام واپس آیا تو مکہ والوں نے ان مسلمانوں کو بلانے کے لئے ایک تدبیر سوچی اور وہ یہ کہ حبشہ جانے والے بعض قافلوں میں یہ خبر مشہور کر دی کہ مکہ کے سب لوگ مسلمان ہو گئے ہیں جب یہ خبر حبشہ پہنچی تو اکثر مسلمان خوشی سے مکہ کی طرف واپس لوٹے مگر مکہ پہنچ کر ان کو معلوم ہوا کہ یہ خبر محض شرار نا مشہور کی گئی تھی اور اس میں کوئی حقیقت نہیں۔اس پر کچھ لوگ تو واپس حبشہ چلے گئے اور کچھ مکہ میں ہی ٹھہر گئے۔(دیا چه تفسیر القرآن صفحه ۱۱۲) جو لوگ حبشہ سے واپس آئے تھے اہل مکہ نے اُن کو خوب انتقام کا نشانہ بنایا۔مارتے تھے اور مکہ چھوڑ کر جانے بھی نہ دیتے تھے۔بدقت تمام کچھ گروہ بچ بچا کر نکل جاتے اسی طرح مختلف وقتوں میں قریباً سو احباب مکہ چھوڑنے میں کامیاب ہوئے۔جب آپ نے مکہ سے مدینہ ہجرت فرمائی تو کچھ لوگ واپس آگئے اور جو باقی رہ گئے تھے انہیں آپ نے سے ہجری میں واپس بلا روایات کے مطابق نجاشی بعد میں مسلمان ہو گیا تھا۔( تفسیر کبیر جلد پنجم صفحه ۵) جب حضرت رسول کریم علیہ کو نجاشی کے انتقال کی خبر پہنچی تو آپ نے نماز جنازہ پڑھی اور (شیلی صفحه (۲۲) دعائے مغفرت کی۔یہ زمانہ مسلمانوں کے لئے شدید اذیت کا زمانہ تھا ایک دفعہ اللہ تعالیٰ کو مان لینے کے بعد تکلیفوں اور دکھوں کا دروازہ کھل جاتا مگر کسی مسلمان نے ان تکلیفوں کے ڈر سے اللہ تعالیٰ کا در نہیں چھوڑا بلکہ ہر مشکل اور ہر آزمائش پر اُن کا ایمان مضبوط ہوتا چلا گیا۔جو مصیبتیں تاریخ میں لکھی گئیں وہ ہی اسقدر زیادہ ہیں کہ سنتے ہوئے روح کانپ جاتی ہے۔جبکہ اصل مصائب اس سے کہیں زیادہ ہوں گے۔خاندان کے ایک رکن کو طرح طرح سے اذیتیں دی جا رہی ہوں تو باقی لوگ بھی سکون سے نہیں رہ سکتے۔مسلمانوں کی تعداد بہت کم تھی وہ کسی بھی قسم کا مقابلہ نہیں کر سکتے