دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 27
27 ہجرت حبشہ نبوت کا پانچواں سال تھا۔اہل مکہ کی مخالفانہ کوششوں کی وجہ سے اسلام کی تبلیغ کا کام دشوار ہو رہا تھا۔ابتدا میں اسلام قبول کرنے والے زیادہ تر غریب اور کمزور لوگ تھے اس لئے مکہ والوں کے ہاتھوں میں ادنی شکار تھے۔وہ زبردستی پر اتر آئے تھے۔ان حالات میں جہاں جان بچانا مشکل ہو رہا تھا اسلام کی تعلیم پہنچانا بہت مشکل تھا۔اس بے چارگی کی حالت میں ایک دن آپ نے اپنے ساتھیوں کو بلوایا اور بڑی رازداری سے انہیں یہ ارشاد فرمایا کہ تم لوگ تھوڑے تھوڑے کر کے مکہ سے نکل جاؤ اور مغرب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا مغرب کی طرف سمندر پار ایک زمین ہے جہاں خدا کی عبادت کی وجہ سے ظلم نہیں کیا جاتا وہاں ایک منصف بادشاہ ہے تم لوگ ہجرت کر کے وہاں چلے جاؤ شاید تمہارے لئے آسانی کی راہ پیدا ہو جائے“۔آپ کی مراد حبشہ تھی۔حبشہ جس کا نام ایتھوپیا اور ابی سینیا بھی ہے براعظم افریقہ کے شمال میں واقع ہے جنوبی عرب سے بحیرہ احمر پار کر کے بالکل مقابل پر واقع ہے۔حبشہ کے حکمرانوں کو نجاشی کہتے تھے۔آنحضرت ﷺ کے زمانے میں جو نجاشی حبشہ پر حکمران تھا اس کا نام اصمحہ تھا وہ مذہباً عیسائی تھا مزا جا نیک دل، انصاف پسند اور خدا سے خوف رکھنے والا انسان تھا آپ کو توقع تھی کہ وہاں مسلمان امن میں رہ سکیں گے۔اور مکہ کی نسبت بے خوف ہو کر جرات اور حوصلہ سے اسلام کا پیغام پہنچانے کا کام کر سکیں گے۔اپنا وطن چھوڑ کر چھپتے چھپاتے دوسرے ملک کی طرف ہجرت کرنا آسان کام نہ تھا قدم قدم پر جانی دشمن موقع کی تاک میں لگے رہتے دکھ دینے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے ایسے میں اگر انہیں سن گن ہو جاتی کہ مسلمان اُن کے ہاتھ سے نکلے جارہے ہیں تو طوفان کھڑا ہو جاتا۔دوسرے مسلمانوں کو مکہ سے بہت محبت تھی وطن اور وہ بھی مکہ یکدم چھوڑ دینا اور بے سروسامانی میں غیر یقینی مستقبل کی طرف رُخ کرنا مشکل بلکہ