دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 30
30 دے کر ہم خیال بنا یا اس طرح بادشاہ تک رسائی حاصل کر لی۔بادشاہ نے ملاقات کا وقت دیا تو یہ وفد بڑی شان و شوکت سے دربار میں گیا اور بادشاہ کی خدمت میں قیمتی تحائف پیش کئے۔اور اپنا مدعا بیان کیا۔بادشاہ سلامت ہمارے چند بے وقوف لوگوں نے اپنا آبائی مذہب ترک کر دیا ہے اور ایک نیادین نکالا ہے جو آپ کے دین کے بھی مخالف ہے اور ان لوگوں نے ملک میں فساد ڈال دیا ہے اور اب ان میں سے بعض لوگ وہاں سے بھاگ کر یہاں آگئے ہیں۔پس ہماری یہ درخواست ہے کہ آپ ان کو ہمارے ساتھ واپس بھیجوا دیں۔درباریوں نے فوراً ان کی تائید شروع کر دی مگر بادشاہ نے سمجھداری سے کام لیا اور درخواست سن کر یک طرفہ فیصلہ دینے کی بجائے کہا کہ یہ لوگ میری پناہ میں آئے ہیں پس جب تک میں خود ان کا اپنا بیان نہ سُن لوں میں کچھ نہیں کہہ سکتا۔چنانچه مسلمان مہاجرین دربار میں بلائے گئے اُن سے نجاشی نے پوچھا یہ کیا معاملہ ہے اور یہ کیا دین ہے جو تم نے نکالا ہے۔مسلمانوں کی طرف سے آنحضور میں لے کے چچازاد بھائی حضرت جعفر بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے جواب دیا۔رے بادشاہ! ہم جاہل لوگ تھے بت پرستی کرتے تھے۔مردار کھاتے تھے۔بدکاریوں میں مبتلا تھے۔قطع رحمی کرتے تھے۔ہمسایوں سے بد معاملگی کرتے تھے اور ہم میں سے مضبوط کمزور کا حق دبا لیتا تھا۔اس حالت میں اللہ نے ہم میں اپنا ایک رسول بھیجا جس کی نجابت اور صدق اور امانت کو ہم سب جانتے تھے۔اُس نے ہم کو تو حید سکھائی اور بت پرستی سے روکا اور راست گفتاری اور امانت اور صلہ رحمی کا حکم دیا اور ہمسایوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنے کی تعلیم دی اور بدکاری اور جھوٹ اور تیموں کا مال کھانے سے منع کیا اور خونریزی سے روکا۔اور ہم کو عبادت