دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 16
جھوٹ نہیں بولتے۔16 حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم مجھے صادق سمجھتے ہو تو میں تمہیں بتاتا ہوں کہ خدا نے مجھے یہ کہا ہے کہ میں اُس کا رسول ہوں اور اُس نے مجھے حکم دیا ہے کہ میں تمہیں ڈراؤں اور تمہیں بتوں کی پرستش سے روکوں اگر تم میری بات نہیں مانو گے تو تباہ ہو جاؤ گے۔مکہ والوں نے جو کچھ دیر پہلے ایک بظاہر ناممکن بات پر بھی آپ کو سچا مانے کا اقرار کیا تھا فورا یہ بات ماننے سے انکار کر دیا۔آپ کی بات آگے سنی ہی نہیں اور آپس میں باتیں کرتے ہوئے ادھر ادھر چلے گئے کہ دیکھو اس شخص کو کیا ہو گیا ہے الٹی سیدھی باتیں کرتا ہے۔ابولہب نے کہا اے محمد تم پر ہلاکت ہو تم نے اتنی معمولی سی بات کے لئے ہمیں جمع کیا۔( تفسیر کبیر جلد دہم سے استفادہ) آپ نے دیکھا کہ کسی نے آپ کی بات پر توجہ نہیں دی تو آپ نے دوسرا طریق اختیار فرمایا حضرت علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ بنو عبد المطلب کو کھانے کی دعوت پر بلاؤ آپ یہ چاہتے تھے کہ اس طرح دعوت کے بعد آپ اللہ تعالیٰ کا پیغام دیں۔دعوت میں سب قریبی رشتہ دار آئے قریباً چالیس آدمی ہو گئے کھانے کے بعد جب آپ نے اپنا مدعا بیان کرنا چاہا تو سب لوگ اُٹھ اُٹھ کر چلے گئے آپ کا پیغام نہ سنا۔حضرت علی رضی اللہ عنہ نے آپ کے ارشاد پر ایک اور دعوت کا انتظام کیا۔آپ نے دعوت سے پہلے اپنے رشتہ داروں کو مخاطب کر کے فرمایا اے بنو عبد المطلب! دیکھو میں تمہاری طرف وہ بات لے کر آیا ہوں کہ اس سے بڑھ کر اچھی بات کوئی شخص اپنے قبیلہ کی طرف نہیں لایا میں تمہیں خدا کی طرف بلاتا ہوں اگر تم میری بات مانو تو تم دین و دنیا کی بہترین نعمتوں کے وارث بنو گے اب بتاؤ اس کام میں میرا کون مددگار ہو گا ؟ سب خاموش تھے اور ہر طرف مجلس میں ایک سناٹا تھا یک لخت ایک طرف سے ایک تیرہ