دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ

by Other Authors

Page 29 of 39

دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 29

29 خیال ہوتا ہے کہ فی الوقت عمر سے کوئی خطرہ نہیں۔( تفسیر کبیر جلد ششم صفحه ۱۴۰ سے استفادہ) سبیح ہونے سے پہلے سب مہاجرین ساحل پر جمع ہوئے پہلے قافلے میں کل چار عورتیں اور دس مرد تھے۔حضرت رقیہ بنت رسول اللہ اور اُن کے شوہر حضرت عثمان بن عفان ، حضرت (ابن ہشام) عبدالرحمن بن عوف ، حضرت زبیر بن العوام ، حضرت مصعب بن عمیر ، حضرت ابو سلمہ مبین عبد الاسد اور ان کی زوجہ حضرت اُم سلمہ۔اللہ کی قدرت بندرگاہ شعیہ پر دو جہاز جبشہ جانے کے لئے تیار کھڑے تھے یہ تجارتی جہاز تھے مسافروں سے کرایہ بھی واجبی سالیا اور روانہ ہو گئے۔روشنی ہوئی دن چڑھا تو قریش مکہ کو خبریں ملنے لگیں کہ کچھ مسلمان ہاتھ سے نکل گئے بندرگاہ تک آدمی دوڑائے مگر اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا جہاز تو بیچارے خوش نصیب مسلمانوں کو لے کر روانہ ہو چکا تھا۔اکابرین مکہ نے سوچا "مسلمانوں کی ایک جماعت کو مکہ سے نکال دینا ہماری کامیابی نہیں کہلا سکتا بلکہ یہ ہماری شکست کی علامت ہے کیونکہ اس طرح اسلام کے دو مرکز قائم ہو گئے اور مکہ سے نکل کر تبلیغ ایک قوم کی جگہ دو قوموں یعنی اہل مکہ اور مسیحیوں میں ہونی شروع ہو گئی ہے اس کے ساتھ ہی جب انہیں یہ اطلاعات بھی ملنی شروع ہو گئیں کہ ان لوگوں کو امن میسر آ گیا ہے اور نہ کوئی اُن کو مارتا پیٹتا ہے اور نہ کسی قسم کا دکھ دیتا ہے بلکہ وہ آرام سے عبادتیں اور ذکر الہی کرتے ہیں اور محنت کر کے اپنے لئے روزی پیدا کرتے ہیں تو انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ میری غلطی ہوگئی ( تفسیر کبیر جلد پنجم صفحه ۳) چنا نچہ اس غلطی کا ازالہ کرنے کے لئے انہوں نے عمرو بن العاص اور عبد اللہ بن ربیعہ کو نجاشی اور اُس کے درباریوں کے لئے بہت سے تحائف دے کر حبشہ بھیجا تا کہ وہ کسی نہ کسی طرح بادشاہ کو قائل کر کے مکہ کے مہاجروں کو واپس لے آئیں۔وفد گیا اور درباریوں کو تحائف دے