دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ

by Other Authors

Page 28 of 39

دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 28

28 بہت مشکل تھا مگر ایک سب سے بڑا سہارا اللہ تعالیٰ کی ذات اور حضرت محمد رسول اللہ اللہ کی دعائیں اُن کے ساتھ تھیں۔رازداری سے سب امور طے کئے اور ماہ رجب ۵ نبوی کی ایک رات اپنے اپنے گھروں اور سامانوں اور ساتھیوں رشتے داروں کو چھوڑ کر خدا تعالیٰ کی طرف ہجرت کرنے والے مکہ سے نکلے۔سفر کو خفیہ رکھنے کے لئے روانگی کا وقت صبح نماز فجر سے پہلے کا تجویز ہوا۔✓ مکہ میں یہ رواج تھا کہ شہر کے بعض رؤساء رات کو شہر کا گشت کیا کرتے تھے تا کہ چوری ڈکیتی کا کوئی واقعہ نہ ہو۔اس رات حضرت عمرہ شہر میں گھوم رہے تھے ایک جگہ دیکھا کہ سفر کا سامان بندھا پڑا ہے اور پاس ایک خاتون ام عبداللہ کھڑی ہیں۔حضرت عمر نے حیرت سے کہا ام عبد اللہ یہ تو ہجرت کے سامان نظر آتے ہیں أم عبد اللہ کہتی ہیں میں نے جواب دیا ہاں خدا کی قسم ہم کسی اور ملک میں چلے جائیں گے کیونکہ تم نے ہم کو بہت دُکھ دئے ہیں اور ہم پر بہت ظلم کئے ہیں ہم اس وقت تک وطن نہیں لوٹیں گے جب تک خدا تعالی ہمارے لئے کوئی آسانی اور آرام کی صورت پیدا نہ کردے۔(دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۱۲۲) حضرت عمر مضبوط دل کڑیل جوان تھے۔مگر یہ جواب سن کر اُن کا دل پسیج گیا اپنا منہ دوسری طرف کر لیا اور کہا ام عبداللہ جاؤ خدا تمہارا حافظ ہو اُن کی آواز بھرائی ہوئی تھی اس خیال سے کہ جذبات سے مغلوب ہو کر رونہ دیں منہ دوسری طرف کر لیا تھا۔اتنے میں اُس صحابیہ کے شوہر آگئے عمر کو اپنی بیوی اور بندھے ہوئے سامان کے پاس دیکھا تو گھبرا گئے کہ اب مخبری ہو جائے گی اور سارا منصوبہ دھرا رہ جائے گا مگر ام عبد اللہ نے اپنے شوہر کو بتایا کہ عمر نے ”خدا حافظ کہا ہے اس حالت میں کہ اُن کی آواز بھرائی ہوئی تھی اس سے