دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 21
21 جو ظلم ہوتے رہے ہیں انہیں مٹا دیا جائے گا اور شیطان کی حکومت کی جگہ خدائے واحد کی حکومت قائم کر دی جائے گی۔(دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۱۱۹ ۱۲۰ ) قریش مکہ اتنی پیاری اور پر حکمت باتوں کو اہمیت نہ دیتے۔ہدایت کا سورج نکل چکا تھا مگر وہ آنکھیں بند کر کے بیٹھے تھے بلکہ بے عقل یہ چاہتے تھے کہ سورج کو پھونکیں مار مار کر بچھا دیں۔مگر یہ وہ سورج تھا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے روشنی دینے کے لئے طلوع ہوا تھا۔مکہ والے ہر نئے دن آپ کے ساتھیوں جانثاروں میں اضافہ دیکھتے تو جل بھن جاتے مگر وہ کوئی انتہائی قدم اُٹھاتے ہوئے ڈرتے تھے دراصل وہاں قبائلی نظام رائج تھا۔اگر ایک قبیلے والے دوسرے قبیلے کے کسی فرد سے برا سلوک کرتے تو سارا قبیلہ انتقام لینے کو تیار ہو جاتا۔حضرت رسول کریم ہی ہے بنو ہاشم سے تعلق رکھتے تھے جن کی سرداری پہلے عبد المطلب کے پاس تھی اُن کی وفات کے بعد ابو طالب سردار ہوئے۔قریش مکہ کو ڈر تھا کہ اگر محمد کی جان کو خطرہ ہوا تو بنو ہاشم انتقام لینے کے لئے جنگ کریں گے بنو ہاشم اگر محمد کی حمایت سے ہاتھ اٹھا لیں تو پھر ہم جو مرضی کریں۔اس مقصد کے لئے مکہ کے کچھ بڑے لوگ ولید بن مغیرہ ، عاص بن وائل، عتبہ بن ربیعہ، ابو جہل اور ابوسفیان وغیرہ مل کر ابو طالب کے پاس گئے اور ادب سے درخواست کی کہ آپ کے بھتیجے کے نئے دین کی وجہ سے شہر میں پھوٹ پڑنے کا خدشہ ہے آپ اُس کی حمایت سے ہاتھ اُٹھا لیں ہم خود آپس میں فیصلہ کرلیں گے ابو طالب نے اُن کے ساتھ بہت نرمی سے باتیں کیں اُن کے غصہ کو کم کرنے کی کوشش کرتے رہے اور بالآخر انہیں ٹھنڈا کر کے واپس کر دیا۔ابن ہشام + سیرت خاتم النبین صفحه ۱۳۷) اس کے بعد جب مکہ کے رؤسا نے دیکھا کہ ان کے اپنے گھروں سے لوگ پیدا ہو رہے ہیں جو بتوں کی خدائی طاقت تسلیم نہیں کرتے اور وہ کھلے طور پر خدائے واحد کی پرستش کرتے ہیں تو یہ بات اُن