دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ

by Other Authors

Page 20 of 39

دعوت الی اللہ اور ہجرت حبشہ — Page 20

20 نہیں رہی۔اچھے اور برے میں تم امتیاز نہیں کر سکتے اپنی ماؤں کی بے حرمتی کرتے ہو اپنی بہنوں اور بیٹیوں پر ظلم کرتے ہو ان کے حق انہیں نہیں دیتے اپنی بیویوں سے تمہارا سلوک اچھا نہیں۔یتامی کے حق مارتے ہو اور بیواؤں سے برا سلوک کرتے ہو غریبوں اور کمزوروں پر ظلم کرتے ہو اور دوسروں کے حق مار کر اپنی بڑائی ظاہر کرنا چاہتے ہو۔جھوٹ اور فریب سے تم کو عار نہیں۔چوری اور ڈاکے سے تم کو نفرت نہیں۔جوا اور شراب تمہارا شغل ہے حصول علم اور قومی خدمت کی طرف تمہاری توجہ نہیں۔خدائے واحد کی طرف سے کب تک غافل رہو گے۔آؤ اور اپنی اصلاح کرو اور ظلم کو چھوڑ دو ہر حقدار کو اس کا حق دو۔خدا نے اگر مال دیا ہے تو ملک و قوم کی خدمت اور کمزوروں اور غریبوں کی ترقی کے لئے اُسے خرچ کر دو عورتوں کی عزت کرو ان کے حق ادا کر د یتیموں کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھو اور اُن کی خبر گیری کو اعلیٰ درجہ کی نیکی سمجھو۔بیواؤں کا سہارا بنو نیکیوں اور تقومی کو قائم کرو انصاف اور عدل ہی نہیں بلکہ رحم اور احسان کو اپنا شعار بناؤ اس دنیا میں تمہارا آنا بے کار نہیں جانا چاہئے اچھے آثار اپنے پیچھے چھوڑ و تا دائگی نیکی کا بیج بویا جائے۔حق لینے میں نہیں بلکہ قربانی اور ایثار میں اصل عزت ہے۔پس تم قربانی کرو خدا کے قریب ہو خدا کے بندوں کے مقابل پر ایثار کا نمونہ دکھاؤ تا خدا تعالی کے ہاں تمہارا حق قائم ہو بے شک ہم حاکم ہیں مگر ہماری کمزوری کو نہ دیکھو آسمان پر سچائی کی حکومت کا فیصلہ ہو چکا ہے اب حضرت محمد رسول اللہ علہ کے ذریعے عدل کا تر از درکھا جائے گا اور انصاف اور رحم کی حکومت قائم کی جائے گی۔جس سے کسی پر ظلم نہ ہوگا۔مذہب کے معاملے میں دخل اندازی نہ کی جائے گی عورتوں اور غلاموں پر