دعوت الامیر — Page 49
(ra) دعوة الامير لئے کہتا ہوں کہ پہلے بزرگوں کی کتب اس غلط عقیدے کے خلاف ظاہر کر رہی ہیں جیسے حضرت محی الدین ابن عربی ، حضرت ملا علی قاری اور علامہ ابن قیم کی کتب ،حضرت مولانا روم کی مثنوی، حضرت مجددالف ثانی شیخ احمد سر ہندی کے مکتوبات وغیرہ ) اس سے پیدا ہوئی ہے کہ انہوں نے نبوت کے معنی سمجھنے میں غلطی کی ہے اور وہ خیال کرتے ہیں کہ نبی وہی ہوتا ہے جو کوئی جدید شریعت لائے یا پہلی شریعت کے بعض احکام کو منسوخ کرے یا پہلے نبی کی اطاعت سے باہر ہو لیکن اصل بات یہ ہے کہ یہ باتیں نبی کے لئے ضروری نہیں۔یہ بھی ہو سکتا ہے کہ نبی ان تینوں قسموں میں سے کسی ایک میں شامل ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک شخص میں یہ تینوں باتیں نہ ہوں۔نہ وہ کوئی جدید کتاب لائے نہ پہلی شریعت کے کسی حکم کو منسوخ کرے اور نہ نبوت اسے براہ راست ملے اور پھر بھی وہ نبی ہو کیونکہ نبوت ایک خاص مقام قرب کا نام ہے جس مقام پر فائز شخص کا یہ کام ہوتا ہے کہ وہ دنیا کی اصلاح کرے اور لوگوں کو خدا تعالیٰ کی طرف کھینچ کر لائے اور مُردہ دلوں کو زندگی بخشے اور خشک زمین کو شاداب کرے اور خدا تعالیٰ کی طرف سے جو کلام لوگوں کی ہدایت کے لئے نازل ہوا ہو، اسے لوگوں تک پہنچائے اور ایک ایسی جماعت پیدا کرے جو اپنی زندگیوں کو حق کی اشاعت میں لگا دے اور اس کے نمونے کو دیکھ کر اپنے دلوں کی اصلاح کرے اور اپنے اعمال کو درست کرے۔غرض نبوت کی نفی نبوت کے مفہوم کو غلط سمجھنے سے پیدا ہوئی ہے ورنہ بعض اقسام کی نبوتیں تو بجائے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان گھٹانے کے آپ کی شان بڑھانے والی ہیں۔کہا جاتا ہے کہ قرآن کریم رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبوت کا سلسلہ بند