دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 397

دعوت الامیر — Page 222

۲۲۲ دعوة الامير امراء کو بھی آپ سے مخالفت تھی کیونکہ آپ احکام اسلام کی پابندی کرواتے تھے اور ان کو اس قسم کی پابندی کی عادت نہ تھی اور اسے وہ وبالِ جان سمجھتے تھے اور پھر یہ بھی تھا کہ آپ بنی نوع انسان کے ساتھ نیک سلوک اور ہمدردی کا حکم دیتے تھے جس کی وجہ سے أمراء کو خیال تھا کہ آپ کی تعلیم کے پھیلنے سے وہ غلامی کی حالت جولوگوں میں پیدا ہے دور ہو جائے گی اور ان کی نظر وسیع ہو کر ہماری حکومت جاتی رہے گی۔غیر مذاہب کے لوگ بھی آپ کے دشمن تھے کیونکہ اُن کو آپ میں وہ شخص نظر آرہا تھا، جس سے اُن کے مذاہب کی ہلاکت مقدر تھی۔جس طرح ایک بکری ایک شیر سے طبعی منافرت رکھتی ہے اسی طرح غیر مذاہب کے لوگ آپ سے کھچاوٹ محسوس کرتے اور کوشش کرتے تھے کہ جس قدر جلد ہو سکے آپ کو مٹادیں۔حکامِ وقت بھی آپ کے مخالف تھے کیونکہ وہ بھی مسیح و مہدی کے ناموں سے خوفزدہ تھے اور پرانی روایات کے اثر سے متاثر ہو کر ان ناموں والے شخص کی موجودگی اور فساد کے پھیلنے کو لازم وملزوم سمجھتے تھے۔آپ کا اظہار وفاداری اُن کے لئے تسلی کا موجب نہ تھا، کیونکہ وہ اسے موقع شناسی پر محمول کرتے تھے اور سمجھتے تھے کہ جب ان کو طاقت حاصل ہو جائے گی اُس وقت یہ ان خیالات امن کو شاید چھوڑ دیں۔عوام الناس کو بھی آپ سے مخالفت تھی ، کیونکہ اول تو وہ علماء یا پیروں یا امیروں یا پنڈتوں یا پادریوں کے ماتحت ہوتے ہیں۔دوم وہ بوجہ جہالت رسم و عادات کے ہر نئی بات کے سخت مخالف ہوتے ہیں۔اُن کے نزدیک آپ کا دعوئی ایک نیا دعویٰ اور اسلام میں رخنہ اندازی کا موجب تھا۔اس لئے وہ کچھ تو اپنے سرداروں کے اشاروں پر اور کچھ اپنی جہالت کی وجہ سے آپ کے مخالف تھے۔