دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 187 of 397

دعوت الامیر — Page 187

(۱۸۷) دعوة الامير مقلد ہو یا غیر مقلد سنی ہو یا شیعہ پھیلے ہوئے ہیں اور ان کی موجودگی میں کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ مسلمان لَا إِلَهَ إِلَّا الله کے مضمون پر قائم ہیں۔بیشک اس وقت بھی لَا إِلَهَ إِلا اللَّهُ مسلمانوں کے منہ پر جاری ہے لیکن مذکورہ بالا عقائد کی وجہ سے وہ اس کے مفہوم سے اسی قدر دور جا پڑے ہیں جس قدر کہ اور مشرک اقوام۔اس تمام گمراہی اور ضلالت کے متعلق حضرت اقدس مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام نے آکر جو تعلیم دی وہ ایسی موحد انہ اور اللہ تعالیٰ کا جلال قائم کرنے والی ہے کہ اس کو مان کر انسان کا دل محبت الہی سے بھر جاتا ہے اور شرک کی آگ سے انسان بالکل محفوظ ہو جاتا ہے اور توحید کے اس مقام کو پالیتا ہے جس پر صحابہ کرام کھڑے تھے۔آپ نے ان سب مذکورہ بالا خیالات کو بدلائل غلط ثابت کیا اور بتایا کہ اللہ ایک ہے اس کے سوا کسی مردے سے مراد میں مانگنی یا قبروں پر نیازیں چڑھانی یا کسی کو سجدہ کرنا خواہ زندہ ہو یا مردہ یا کسی کو اللہ کی قدرت کا مالک جاننا یا عالم الغیب سمجھنا خواہ نبی ہو یا غیر نبی یا اللہ تعالیٰ کے سواکسی کے نام پر جانور ذبح کرنا یا کوئی اور چیز اس کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے صدقہ کرنی یا کسی کی نسبت یہ یقین کرنا کہ وہ جو کچھ چاہے اللہ تعالیٰ سے منوالے شرک ہے اس سے مومن کو پر ہیز کرنا چاہئے۔اسی طرح آپ نے یہ ثابت کیا کہ حضرت مسیح علیہ السلام دیگر انبیاء کی طرح فوت ہو چکے ہیں اور زیر زمین مدفون ہیں۔وہ روحانی مُردوں کو زندہ کرتے تھے اور جس طرح انسان پیدا کر سکتا ہے پیدا کرتے تھے۔بے جان کو جان دینے کی یا مردے کو زندہ کرنے کی ان میں طاقت نہ تھی۔نہ بلا اذن اللہ اور نہ باذن اللہ۔کیونکہ اللہ تعالیٰ اپنی صفات مخصوصہ کسی بندہ کو نہیں دیا کرتا اور اس کا کلام ان صفات کے مسیح یا اور کسی آدمی میں پائے جانے کے صریح خلاف ہے اور جس قدر لوگ شرک پھیلاتے ہیں وہ اسی قسم کی باتیں بنایا