دعوت الامیر — Page 128
(IPA) دعوة الامير مسیح موعود کے زمانے میں پیدا ہونے ضروری ہیں ان میں سے بعض یہ ہیں:۔۱۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حذیفہ ابن الیمان نے روایت کی ہے اور ابو نعیم نے حلیہ میں اسے بیان کیا ہے کہ آپ نے فرمایا کہ قیامت کی علامتوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس وقت مسلمانوں پر اس قدر مصائب آئیں گی کہ وہ مثل یہود کے ہو جائیں گے۔(حجج الكرامة في أثار القيامۃ صفحہ ۲۹۸ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ ) جس سے آپ کی یہ مراد ہے کہ مسلمانوں کی حکومتیں اور ان کا اقتدار جاتا رہے گا اور یہود کی طرح دوسروں کے رحم پر ان کی زندگی کا انحصار ہوگا۔یہ علامت بھی پوری ہو چکی ہے۔اسلامی حکومتیں مٹ گئی ہیں اور نہایت قلیل نشان ان کے باقی ہیں۔یا تو دنیا پر اسلامی جھنڈا ہی لہرا تا نظر آتا تھا، یا اب اُس جھنڈے کو لہرانے کے لئے کوئی جگہ نہیں ملتی۔مسلمان اپنی حکومتوں کے قائم رکھنے کے لئے بھی کسی نہ کسی مسیحی حکومت کی مدد کے محتاج ہیں۔انا للہ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ ایک سیاسی تغیر زمانہ مسیح موعود کے وقت کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بیان فرمایا ہے کہ شام اور عراق اور مصر اس وقت کے بادشاہ کے ہاتھ سے نکل جائیں گے اور عرب کے لوگوں کی حالت پھر طوائف الملوکی کی ہو جائے گی ، چنانچہ ابو ہریرہ سے مسلم میں روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عراق اپنے درہم اور غلے روک دیگا اور شام اپنے دینار اور غلے کو روک دیگا اور مصر اپنے غلے کو روک دیگا اور تم پھر ویسے کے ویسے ہو جاؤ گے جیسے کہ پہلے تھے۔(مسلم کتاب الفتن باب لا تقوم الساعة حتى يحسر الفرات عن جبل من ذهب) یعنی عرب میں طوائف الملوکی پیدا ہو جائے گی۔یہ علامت بھی پوری ہو گئی ہے۔