دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 74 of 397

دعوت الامیر — Page 74

(<) دعوة الامير لغت اور علم محاورہ زبان اور علم تاریخ اور علم قواعد، تدوین تاریخ اور علم فقہ وغیرہ علوم کی بنیاد پڑی اور ان علوم نے اسی قدر زیادہ ترقی حاصل کی جس قدر کہ ان علوم کی حفاظت کا قرآن کریم سے تعلق تھا۔چنانچہ ظاہری علوم میں سے صرف ونحو اور لغت کا تعلق حفاظت قرآن کے ساتھ سب سے زیادہ ہے اور ان علوم کو اس قدر ترقی حاصل ہوئی ہے کہ یورپ کے لوگ اس زمانے میں بھی عربی صرف و نحو اور لغت کو سب زبانوں کی صرف ونحو اور لغت سے اعلیٰ اور زیادہ مدون خیال کرتے ہیں۔ان علوم کی ترقی کے علاوہ حفاظت قرآن کریم کے لئے ہزاروں لاکھوں آدمیوں کے دل میں حفظ قرآن کی خواہش پیدا کر دی گئی اور اس کی عبارت کو ایسا بنایا گیا کہ نہ نثر ہے نہ شعر جس سے اس کا یاد کرنا بہت ہی آسان ہوتا ہے۔ہر شخص جسے مختلف قسم کی عبارتوں کے حفظ کرنے کا موقع ملا ہے جانتا ہے کہ قرآن کریم کی آیات کا حفظ کرنا سب عبارتوں سے زیادہ سہل اور آسان ہوتا ہے غرض ایک طرف اگر قرآن کریم ایسی عبارت میں نازل کیا گیا ہے کہ اس کا حفظ کرنا نہایت آسان ہو گیا ہے تو دوسری طرف لاکھوں آدمیوں کے دل میں اس کے حفظ کرنے کی خواہش پیدا کر دی گئی ہے اور نمازوں میں قرآن کریم کی تلاوت فرض کر کے ہر مسلمان کے ذمے اس کے کسی نہ کسی حصے کی حفاظت مقرر کر دی گئی ہے حتی کہ اگر قرآن کریم کے سب نسخوں کو بھی نعوذ باللہ من ذالک کوئی دشمن تلف کر ڈالے تب بھی قرآن کریم دنیا سے مٹ نہیں سکتا۔یہ چند مثالیں جو میں نے بیان کی ہیں اس امر کے ثابت کرنے کے لئے کافی ہیں کہ قرآن کریم کی حفاظت ظاہری کے لئے اللہ تعالیٰ نے بہت سے ذرائع پیدا کر دیئے ہیں جن کی موجودگی میں اس کا ضائع ہو جانا بالکل ناممکن ہو گیا ہے۔