دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 71 of 397

دعوت الامیر — Page 71

دعوة الامير جس کا اثر انسان کی غیر محدود زندگی پر پڑتا ہے اس کے پورا ہونے کا سامان اللہ تعالیٰ ضرور کرتا ہے۔یہ تو عام قانون ہے مگر ہدایت کے متعلق تو اللہ تعالیٰ خصوصیت کے ساتھ فرماتا ہے کہ جب اس کے بندے ہدایت کے محتاج ہوں تو وہ ضرور ان کے لئے ہدایت کے سامان مہیا کرتا ہے بلکہ اس نے یہ کام اپنے ہی سپر د کر رکھا ہے دوسرے کو اس میں شریک ہی نہیں کیا چنانچہ فرماتا ہے اِنَّ عَلَيْنَا للهدى (الليل :۱۳) بندوں کو ہدایت دینا ہم نے اپنے اوپر فرض کر چھوڑا ہے اور اس کام کا انصرام اپنی ہی ذات کے متعلق وابستہ رکھا ہے۔قرآن کریم ضرورت زمانہ کے مطابق لوگوں کی ہدایت کے سامان پیدا کرنے کو نہ صرف واجب ہی قرار دیتا ہے بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر ایسا انتظام اللہ تعالیٰ کی طرف سے نہ ہوتا تو بندوں کا حق ہوتا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پر اعتراض کرتے کہ جب اس نے ان کے پاس ہادی نہیں بھیجے تو وہ ان سے جواب کیوں طلب کرتا ہے اور ان کو عذاب کیوں دیتا ہے۔چنانچہ سورۃ طہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَلَوْ أَنَّا أَهْلَكْنَاهُم بِعَذَابٍ مِنْ قَبْلِهِ لَقَالُوْا رَبَّنَا لَوْلَا أَرْسَلْتَ إِلَيْنَا رَسُوْلَا فَتَتَّبِعَ آيَاتِكَ مِنْ قَبْلِ أَنْ نَذِلَّ وَنَخْزی (طه: ۱۳۵) یعنی اگر رسول کی بعثت سے پہلے ہم ان پر عذاب نازل کر دیتے تو یہ ہم پر اعتراض کرتے کہ جب ہم گمراہ تھے اور ہدایت کے محتاج تھے تو تو نے ہماری طرف کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ہم ذلیل اور رسوا ہونے سے پہلے ہی تیرے احکام کو قبول کر لیتے اور اللہ تعالیٰ ان کے اس اعتراض کو تسلیم کرتا ہے اور اس کا رد نہیں کرتا بلکہ اس مضمون کو قرآن کریم کے متعدد مقامات پر بیان کر کے اس کی اہمیت کو ثابت فرماتا ہے۔اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ضرورت کے موقع پر ہادی بھیجے بغیر عذاب