دعوت الامیر — Page 37
﴾۳۷﴿ دعوة الامير مہدی نہیں۔دوسری طرف فرماتے ہیں كَيْفَ اَنْتُمْ اذَانَزَلَ ابْنُ مَرْيَمَ فِيكُمْ وَإِمَامُكُمْ مِنْكُمْ (بخاری کتاب الانبیاء باب نزول عیسیٰ ابن مریم) تمہارا کیا حال ہو گا جب تم میں ابن مریم نازل ہوگا اور تمہارا امام تمہیں میں سے ہوگا۔ان دونوں ارشادات نبوی کو ملا کر دیکھیں تو صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام کے وقت میں ان کے سوا کوئی اور مہدی نہیں اور وہ اس امت کے امام ہوں گے مگر اسی امت میں سے ہوں گے کہیں باہر سے نہ آئیں گے۔پس یہ خیال کہ مسیح علیہ السلام کوئی علیحدہ وجود ہوں گے اور مہدی علیحدہ وجود باطل خیال ہے اور لَا الْمَهْدِئُ الا عیسی کے خلاف ہے۔مومن کا یہ کام ہے کہ وہ اپنے آقا کے اقوال پر غور کرے اور جو تضاد ا سے بظاہر نظر آئے اسے اپنے تدبر سے دور کرے۔اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دفعہ یہ فرمایا ہے کہ پہلے مہدی ظاہر ہوں گے پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نازل ہوں گے جو مہدی کی اتباع میں نماز ادا کریں گے۔اور دوسری دفعہ یہ فرمایا ہے کہ مسیح علیہ السلام ہی مہدی ہیں، تو کیا ہمارا یہ کام ہے کہ آپ کے قول کو رد کریں یا یہ کام ہے کہ دونوں پر غور کریں۔اگر دونوں اقوال میں کوئی اتحاد کی صورت ہو تو اس کو اختیار کر لیں اور اگر کوئی ادنی تدبر بھی کرے گا تو اسے معلوم ہو جائے گا کہ ان دونوں اقوال میں اتحاد کی صورت یہی ہے کہ لَا الْمَهْدِئُ الا عیسی دوسری حدیث کی تشریح ہے یعنی پہلے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو سیح علیہ السلام کے نزول کی خبر ایسے الفاظ میں دی تھی جس سے یہ شبہ پڑتا تھا کہ دو علیحدہ علیحدہ وجود ہیں اس کو لَا الْمَهْدِئُ الأَعنسی والی حدیث سے کھول دیا اور بتادیا کہ وہ کلام استعارہ تھا، اس سے صرف یہ مرا تھی کہ امت محمدیہ کا ایک فرد پہلے دنیا کی اصلاح کے لئے مامور کیا جائیگا لیکن کسی رسول کا مقام اسے نہیں دیا جائے گالیکن بعد میں عیسی ابن مریم کے نزول کی پیشگوئی بھی اسی کے حق میں پوری کی جائے گی اور وہ عیسی ہونے