دعوت الامیر — Page 34
(r) دعوة الامير اُن کی مدد کے لئے تیار ہو جائے تو اس کا احسان ماننے کے بجائے اُس پر ناراض ہوتے ہیں کہ کیا ہم جاہل ہیں کہ تو ہمارے منہ میں لقمہ دیتا ہے لیکن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت کس بے پروائی سے بیان کرتے ہیں کہ آپ کی مدد کے لئے ایک دوسرے سلسلے سے نبی بلوایا جائے گا اور خود آپ کی قوت قدسیہ کچھ نہ کر سکے گی۔آہ! کیا دل مر گئے ہیں یا عقلوں پر پتھر پڑ گئے ہیں، کیا سب کی سب غیرت اپنے ہی لئے صرف ہو جاتی ہے اور خدا اور اس کے رسول کے لئے غیرت کا کوئی حصہ باقی نہیں رہتا ، کیا سب غصہ اپنے دشمنوں پر ہی صرف ہو جاتا ہے اور خدا اور اس کے رسول پر حملہ کرنے والوں کے لئے کچھ نہیں بچتا۔ہم سے کہا جاتا ہے کہ کیوں تم ایک اسرائیلی نبی کی آمد کے منکر ہو مگر ہم اپنے دلوں کو کہاں لے جائیں اور اپنی محبت کے نقش کس طرح مٹائیں ہمیں تو محمد رسول اللہ کی عزت سے بڑھ کر کسی اور کی عزت پیاری نہیں، ہم تو ایک منٹ کے لئے بھی یہ برداشت نہیں کر سکتے که محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کسی اور کے ممنون احسان ہوں ہمارا دل تو ایک منٹ کے لئے بھی اس خیال کو برداشت نہیں کر سکتا کہ قیامت کے دن جب تمام مخلوق از ابتداء تا انتہاء جمع ہوگی اور عَلَی رُؤُوسِ الْأَشْهَادِ ہر ایک کے کام بیان کئے جائیں گے اس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن مسیح اسرائیلی کے احسان سے جھکی جا رہی ہوگی اور تمام مخلوق کے سامنے بلند آواز سے فرشتے پکار کر کہیں گے کہ جب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ جاتی رہی تو اس وقت مسیح اسرائیلی نے ان پر احسان کر کے جنت میں سے نکلنا اپنے لئے پسند کیا اور دنیا میں جا کر ان کی امت کی اصلاح کی اور اسے تباہی سے بچایا ہم تو اس امر کو بہت پسند کرتے ہیں کہ ہماری زبانیں کٹ جائیں یہ نسبت اس کے کہ ایسی ہتک آمیز بات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کریں اور ہمارے ہاتھ شل ہو