دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 33 of 397

دعوت الامیر — Page 33

۳۳ دعوة الامير پیدا ہوتے رہے جو آپ کی امت کی اصلاح کرتے رہے لیکن جب اسے یہ منظور ہوا کہ آپ کے سلسلے کو ختم کر دے تو اس نے آپ کی قوم میں سے نبوت کا سلسلہ بند کر کے بنواسمعیل میں سے نبی بھیج دیا۔پس اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی موسوی سلسلے سے آئے گا تو اس کے یہی معنے ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ نعوذ باللہ من ذالک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلے کو بھی ختم کر دے گا اور کوئی اور سلسلہ جاری کرے گا اور نعوذ باللہ من ذالک رسول کریم کی قوت قدسیہ اس وقت کمزور ہو جائے گی اور آپ کا فیضان کسی امتی کو بھی اس امر کے لئے تیار نہ کر سکے گا کہ وہ آپ سے نور پا کر آپ کی اُمت کی اصلاح کرے اور اُسے راہ راست پر لا دے۔افسوس ہے کہ لوگ اپنے لئے تو ضرورت سے زیادہ غیرت دکھاتے ہیں اور کسی قسم کا عیب اپنی نسبت منسوب ہونا پسند نہیں کرتے لیکن خدا کے رسول کی طرف ہر ایک عیب دلیری سے منسوب کرتے ہیں اس محبت کو ہم کیا کریں جو منہ تک رہتی ہے مگر دل میں اس کا کوئی اثر نہیں اور اس ولولے کو کیا کریں جو اپنے ساتھ کوئی ثبوت نہیں رکھتا۔اگر فی الواقع لوگ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت رکھتے تو ایک منٹ کے لئے بھی پسند نہ کرتے کہ ایک اسرائیلی نبی آکر آپ کی اُمت کی اصلاح کرے گا۔کیا کوئی غیرت مند اپنے گھر میں سامان ہوتے ہوئے دوسرے سے مانگنے جاتا ہے یا طاقت ہوتے ہوئے دوسرے کو مدد کے لئے بلاتا ہے۔وہی مولوی جو کہتے ہیں کہ نعوذ باللہ من ذالک رسول کریم کی امت کے لئے اور اس کو مصائب سے بچانے کے لئے مسیح ناصری علیہ السلام آئیں گے، اپنی ذاتوں کے لئے اس قدر غیرت دکھاتے ہیں کہ اگر بحث میں ہار بھی رہے ہوں تو اپنی ہار کا اقرار نہیں کرتے اور کسی دوسرے کو اپنی مدد کے لئے بلانا پسند نہیں کرتے اور اگر کوئی خود بخود