دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 324 of 397

دعوت الامیر — Page 324

(Fre دعوة الامير کا جو نقصان ہوا ہے اُن کی تو کچھ حد ہی نہیں رہی۔جس ملک کی فوج آگے بڑھی اس نے دوسرے ملک کے کھیت اور شہر اُجاڑ دیئے اور سبزے کا نام ونشان باقی نہ چھوڑا اور چونکہ ہزاروں میل پر توپ خانے کا پھیلاؤ تھا۔اس سے بھی اس قدر نقصان ہوا جس کا اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ جانوروں کے ہوش وحواس اُڑ جائیں گے سوایسا ہی ہوا جن علاقوں میں جنگ ہو رہی تھی وہاں کے جانور حواس باختہ ہوکر نیست و نابود ہو گئے۔ایک علامت یہ بتائی گئی تھی کہ زمین اُلٹ پلٹ ہو جائے گی چنانچہ فرانس ، سر و یا اور روس کے علاقوں میں گولہ باری کی کثرت سے بعض جگہ اس قدر بڑے بڑے گڑھے پڑ گئے کہ نیچے سے پانی نکل آیا۔اور اسی طرح خندقوں کی جنگ کے طریق پر زور دینے کی وجہ سے ملک کا ہر حصہ گھر گیا اور ایسا ہوا کہ ان علاقوں کو دیکھ کر یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ یہ علاقہ بھی آباد تھا بلکہ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ بھٹوں کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے یا پہاڑ کی غاریں ہیں۔ایک یہ علامت بتائی گئی تھی کہ ندیوں کے پانی خون سے سُرخ ہو جائیں گے اور خون کی ندیاں چلیں گی سو بلا مبالغہ اسی طرح ہوا۔بعض دفعہ اس قدر خونریزی ہوتی تھی کہ ندیوں کا پانی فی الواقع میلوں میل تک سرخ ہو جاتا تھا اور ہر سرحد پر اس قدر جنگ ہوئی کہ کہہ سکتے ہیں کہ خون کی نالیاں بہہ پڑیں۔ایک یہ علامت بتائی گئی تھی کہ مسافروں پر وہ ساعت سخت ہوگی اور بعض ان میں سے راستہ بھولے پھریں گے چنانچہ ایسا ہی ہوا۔خشکی پر فوجوں کے پھیل جانے سے اور سمندر میں آبدوز جہازوں کے حملوں سے مسافروں کو جو تکلیف ہوئی اس کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا اور جس وقت جنگ شروع ہوئی ہے اس وقت ہزاروں لاکھوں آدمی دشمنوں کے ممالک