دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 19 of 397

دعوت الامیر — Page 19

(19) دعوة الامير السلام سے زیادہ محبت کرتا اور ان کی تکالیف کا زیادہ خیال رکھتا۔جب اس نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت کے قیام کے لئے ایک دنیا کو زیروزبر کر دیا اور جس نے آپ کی ذرا بھی ہتک کرنی چاہی اسے ذلیل کر دیا تو کیا یہ ہوسکتا تھا کہ خود اپنے ہاتھ سے وہ آپ کی شان کو گرا تا اور دشمن کو اعتراض کا موقع دیتا۔میں تو جب یہ خیال بھی کرتا ہوں کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو زیر زمین مدفون ہیں اور حضرت مسیح ناصری آسمان پر زندہ بیٹھے ہیں تو میرے بدن کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں اور میری جان گھٹنےلگتی ہے اور اسی وقت میرا دل پکار اٹھتا ہے کہ خدا تعالیٰ ایسا نہیں کر سکتا۔وہ محمد رسول اللہ صلی ہیں یہ ہم سے سب سے زیادہ محبت کرنے والا تھا وہ اس امر کو ہر گز پسند نہیں کرتا تھا کہ آپ تو فوت ہوکر زمین کے نیچے مدفون ہوں اور حضرت مسیح علیہ السلام زندہ رہ کر آسمان پر جا بیٹھیں۔اگر کوئی شخص زندہ رہنے اور آسمان پر جا بیٹھنے کا مستحق تھا تو وہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تھے اور اگر وہ فوت ہو گئے ہیں تو گل نبی فوت ہو چکے ہیں۔ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اعلیٰ شان اور آپ کے ارفع درجہ کو دیکھتے اور مقام کو پہچانتے ہوئے کس طرح تسلیم کر لیں کہ جب ہجرت کے دن جبل ثور کی بلند چٹانوں پر حضرت ابو بکر کے کندھوں پر پاؤں رکھ کر آپ کو چڑھنا پڑا تو خدا تعالیٰ نے کوئی فرشتہ آپ کے لئے نہ اتارا، لیکن جب مسیح علیہ السلام کو یہودی پکڑنے آئے تو اس نے فوراً آپ کو آسمان پر اٹھا لیا اور چوتھے آسمان پر آپ کو جگہ دی اسی طرح ہم کیونکر مان لیں کہ جب غزوہ اُحد میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دشمنوں نے صرف چند احباب میں گھرا پایا تو اس وقت تو اللہ تعالیٰ نے یہ نہ کیا کہ آپ کو کچھ دیر کے لئے آسمان پر اٹھالیتا اور کسی دشمن کی شکل آپ کی سی بدل کر اس کے دانت تڑوا دیتا، بلکہ اس نے اجازت دی کہ دشمن آپ پر حملہ آور ہو آپ کالمیت زمین پر بے ہوش