دعوت الامیر — Page 238
۲۳۸ دعوة الامير اور وہ اپنی تحریر کے مطابق مسیلمہ کذاب کے مثیل ثابت ہوئے اور ان کی زندگی کا ہر دن اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ایک ثبوت اور اُن کے مسیلمہ ہونے کی ایک زبردست دلیل ہوتا ہے۔غرض اللہ تعالیٰ نے آپ کے دشمنوں کو ہر رنگ میں ہلاک اور ذلیل کیا جنہوں نے اس معیار کو تسلیم کیا کہ جھوٹا بچے کی زندگی میں ہلاک ہوتا ہے اُن کو آپ کی زندگی میں ہلاک کیا اور جنہوں نے اس پر زور دیا کہ جھوٹے کا یہ نشان ہوتا ہے کہ وہ لمبی مہلت پاتا ہے اور بچے کے بعد زندہ رکھا جاتا ہے اُن کو لمبی مہلت دی اور حضرت اقدس کے دشمنوں میں ابو جہل اور مسیلمہ دونوں قسم کے لوگوں کے نمونے دکھا کر حضرت اقدس علیہ السلام کے فنافی الرسول ہونے کا ثبوت دیا اور یہ بھی ثابت کیا کہ یہ سب سامان اللہ تعالیٰ کی طرف سے تھا، محض اتفاق نہ تھا، کیونکہ اگر اتفاق ہوتا تو ہر فریق سے اس کے اپنے مسلمہ معیار کے مطابق کیوں سلوک ہوتا۔علاوہ اس قسم کی ہلاکتوں کے جو دعا ہائے مباہلہ یا بد دعاؤں کے نتیجہ میں آپ کے دشمنوں کو پہنچیں اور کئی طریق پر بھی اللہ تعالیٰ نے آپ کے دشمنوں کو ہلاک کیا، یعنی آپ کے زمانے میں قسم قسم کے عذاب نازل کئے اور اس قدر مصائب میں لوگوں کو مبتلا کیا کہ ہر ایک دل کہہ رہا ہے کہ اس قدر تباہی اس سے پہلے دنیا میں کبھی نہیں آئی تھی ، اس کی تفصیل کی اس جگہ ضرورت نہیں کیونکہ یہ ایسی بات ہے کہ ہر ملک اور ہر قوم اس پر شاہد ہے کونسا ملک ہے جہاں طاعون یا زلزلہ یا انفلوئنزا یا قحط یا جنگ نے بر بادی نہیں کی اور شہروں اور علاقوں کو ویران نہیں کیا۔افراد پر جو عذاب نازل ہوئے ہیں ان میں سے بعض اس قسم کے بھی ہوتے تھے کہ جو لوگ آپ پر کوئی اتہام لگاتے تھے اسی بلا میں خود مبتلاء ہو جاتے تھے۔مثلاً بعض