دعوت الامیر — Page 174
(km) دعوة الامير بر پا کرنے کے لئے تو ہزاروں لوگ تیار ہو جائیں گے کہ ہمارا مذ ہب سچا ہے مگر خدا کی محبت اور اس کے تعلق کا ثبوت دینا تو کسی کے اختیار میں نہیں ، خدا کی محبت تو کیا خدا سے ایک عارضی تعلق بھی جن لوگوں کو نہ ہو وہ خدا کے تعلق کا کیا ثبوت دیں۔آپ نے ہندوؤں کو بھی ایسی دعوت دی اور مسیحیوں کو بھی اور یہود کو بھی اور دیگر تمام ادیان کو بھی مگر کوئی اس حربے کے برداشت کرنے کے لئے تیار نہ ہوا۔مختلف پیرایوں اور مختلف مواقع پر آپ نے لوگوں کو اُکسایا مگر صدائے برنخاست۔ایک دفعہ پنجاب کے لارڈ بشپ کو آپ نے چیلنج دیا کہ میرے مقابل پر آکر دعا کی قبولیت کا نشان دیکھو، تمہاری کُتب میں بھی لکھا ہے کہ اگر ایک رائی کے دانے کے برابر تم میں ایمان ہو تو تم پہاڑوں سے کہو کہ چلو تو وہ چلنے لگیں گے اور ہماری کتب بھی مومنوں کی نصرت اور تائید اور ان کی دعاؤں کی قبولیت کا وعدہ دیتی ہیں۔پس چاہئے کہ تم میرے مقابلہ پر آکر کسی امر کے متعلق دعا کر کے دیکھو تا معلوم ہو جائے کہ اللہ تعالیٰ اسلام کے مطابق زندگی بسر کرنے والوں کی دعائیں مقابلے کے وقت سنتا ہے یا ان کی دعائیں سنتا ہے جو مسیحی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں مگر باوجود بار بار چیلنج دینے کے لارڈ بشپ صاحب خاموش رہے اور ان کی خاموشی ایسی عجیب معلوم ہوتی تھی کہ بعض انگریزی اخبارات نے بھی ان پر چوٹ کی کہ اس قدر بڑی بڑی تنخواہیں لینے والے پادری جب کوئی مقابلے کا وقت آتا ہے تو سامنے ہو کر مقابلہ کیوں نہیں کرتے مگر نہ غیروں کے چیلنج نے پادری صاحب کو مقابلے پر آمادہ کیا اور نہ اپنوں کے طعنوں نے۔وہ آنوں بہانوں سے اس پیالے کو ٹالتے ہی رہے۔اس قسم کے چیلنج آپ نے متواتر دشمنانِ اسلام کو دیئے ،مگر کوئی شخص مقابلے پر نہ آیا۔آپ کا یہ حربہ ایسا ہے کہ ہر ذی عقل اور صاحب شعور آدمی پر اس کا اثر ہوگا اور جوں