دعوت الامیر — Page 173
(kr) دعوة الامير ہے اور ہر ایک شخص اس بات کو محسوس کر لیتا ہے کہ ہم اس کے مقبول اور پیارے ہیں لیکن اگر کچھ پتہ نہیں لگ سکتا تو اللہ تعالیٰ کے تعلق کا کہ نہ اس کا اثر ہمارے نفس پر کچھ پڑتا ہے اور نہ ہمارے تعلقات پر، ہم ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں جیسے کہ پہلے تھے غرض آپ نے ثابت کیا کہ زندہ مذہب میں یہ علامت پائی جانی چاہئے کہ اس پر عمل کرنے والا خدا تعالیٰ کو پاسکے اور اس کا مقرب ہو سکے اور خدا تعالیٰ کے مقربوں میں اس کا قرب پالینے کے کچھ آثار ہونے چاہئیں۔پس چاہئے کہ ہر مذہب کے لوگ بجائے آپس میں ایک دوسرے پر حملہ کرنے کے اپنی روحانی زندگی کا ثبوت دیں اور اپنے مقرب خدا ہونے کو واقعات سے ثابت کریں اور ایسے لوگوں کو پیش کریں جنہوں نے ان دینوں پر چل کر خدا سے تعلق پیدا کیا ہو اور اس کے وصال کے پیالے کو پیاہو، پھر جو مذہب اس معیار کے مطابق سچا ہو اس کو مان لیا جائے ورنہ ایک جسم بے جان سمجھ کر اس کو اپنے سے دور پھینکا جائے کہ وہ دوسرے کو نہیں اٹھا سکتا بلکہ اسکواٹھا نا پڑتا ہے، ایسا مذہب بجائے نفع پہنچانے کے نقصان پہنچائے گا اور اس دنیا میں رسوا کرے گا اور اگلے جہان میں عذاب میں مبتلاء۔یہ دعویٰ آپ کا ایسا تھا کہ کوئی سمجھدار اس کو رد نہیں کر سکتا تھا، اس دعوے کے ساتھ ہی غیر مذاہب کے پیروؤں پر بجلی گری اور وہ اپنی عزت کے بچانے کی فکر میں لگ گئے۔آپ نے بڑے زور سے اعلان کیا کہ اس قسم کی زندگی کے آثار صرف اسلام میں پائے جاتے ہیں ، دوسرے مذاہب ہرگز اس معیار پر پورے نہیں اتر سکتے۔اگر کسی کو اس کے خلاف دعوی ہے تو میرے مقابلے میں آکر دیکھ لے مگر باوجود غیرت دلانے کے کوئی مقابلے پر نہ آیا اور آتا بھی کس طرح؟ کچھ اندر ہوتا تو آتا۔گلا پھاڑنے اور چلا چلا کر یہ شور