دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 155 of 397

دعوت الامیر — Page 155

(100) دعوة الامير کی جو سب سے زیادہ اپنی کامیابی پر اترا رہا تھا اور اسلام کو اپنا شکار سمجھ رہا تھا یہ حالت ہے کہ اس کے مبلغ حضرت اقدس کے خدام سے اس طرح بھاگتے ہیں جس طرح گدھے شیروں سے بھاگتے ہیں اور کسی میں یہ طاقت نہیں کہ وہ احمدی کے مقابلے پر کھڑا ہو جائے۔آج آپ کے ذریعے سے اسلام سب مذاہب پر غالب ہو چکا ہے، کیونکہ دلائل کی تلوار ایسی کاری تلوار ہے کہ گو اس کی ضرب دیر بعدا پنا اثر دکھاتی ہے مگر اس کا اثر نہ مٹنے والا ہوتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ مسیحیت گوا بھی اسی طرح دنیا کو گھیرے ہوئے ہے جس ح پہلے تھی اور دیگر ادیان بھی اسی طرح قائم ہیں جسطرح پہلے تھے مگر اس میں کوئی شک نہیں کہ ان کی موت کی گھنٹی بج چکی ہے۔اور ان کی ریڑھ کی ہڈی ٹوٹ چکی ہے۔رسم ورواج کے اثر کے سبب سے ابھی لوگ اسلام میں اس کثرت سے داخل نہیں ہوتے جس کثرت سے داخل ہونے پر ان کی موت ظاہر بینوں کو نظر آسکتی ہے، مگر آثار ظاہر ہو چکے ہیں۔عظمند آدمی بیج سے اندازہ لگاتا ہے۔حضرت اقدس نے ان پر ایساوار کیا کہ اس کی زد سے وہ جانبر نہیں ہو سکتے اور جلد یا بدیر ایک مردہ ڈھیر کی طرح اسلام کے قدموں پر گریں گے وہ وار جو آپ نے غیر مذاہب پر کئے اور جن کا نتیجہ ان کی یقینی موت ہے یہ ہیں:۔مسیحی مذہب پروار مسیحی مذہب پر تو آپ کا یہ وار ہے کہ اس کی تمام کامیابی اس یقین پر تھی کہ حضرت مسیح صلیب پر مر کر لوگوں کے لئے کفارہ ہو گئے اور پھر زندہ ہو کر آسمان پر خدا کے داہنے ہاتھ پر جابیٹھے ایک طرف انکی موت جسے لوگوں کے لئے ظاہر کیا جاتا تھا لوگوں کے دلوں میں ان کی محبت کی لہر چلا دیتی تھی اور دوسری طرف ان کی زندگی اور آسمان پر خدا تعالیٰ کے