دعوت الامیر — Page 111
دعوة الامير امانت اٹھ جانے اور اس کی جگہ خیانت کے لے لینے کا نظارہ نظر آرہا ہے اس کی زیادہ تشریح کی ضرورت نہیں، ہر گاؤں اور ہر محلے اور ہر گھر کے لوگ اس تغیر کے تلخ اثر کو محسوس کر رہے ہیں۔ایک تغیر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس زمانے کی اخلاقی حالت میں یہ بیان فرمایا تھا کہ اس وقت لوگ ماں باپ سے تو حسن سلوک نہ کریں گے لیکن دوستوں سے سلوک کریں گے۔(ترمذی ابواب الفتن باب ما جاء فی اشراط الساعة) چنانچہ ابونعیم نے حلیہ میں حذیفہ بن الیمان سے روایت کی ہے کہ اس وقت لڑکا اپنے باپ کی تو نافرمانی کرے گا اور اپنے دوست سے احسان کرے گا۔(حجج الكرامة في أثار القيامۃ صفحہ ۲۹۸ مطبوعہ بھوپال ۱۲۰۹ھ ) یہ تغیر بھی اس شدت کے ساتھ پیدا ہو رہا ہے کہ ہر شریف آدمی کا دل اس کو دیکھ کر موم کی طرح پگھل جاتا ہے ، مغربی تمدن کے دلدادہ اور تعلیم جدید سے روشنی حاصل کر نیوالے لوگ اپنے بزرگوں کو پاگل سمجھتے اور ان کی صحبت سے احتراز کرتے ہیں اور اپنے ہم خیال نوجوانوں کی مجالس حیا سوز میں اپنے اوقات صرف کرنے کو راحت سمجھتے ہیں۔دوستوں کی دعوتوں اور ان کی خاطر و مدارات وغیرہ پر خرچ کرنے کے لئے ان کے پاس روپیہ نکل آتا ہے۔لیکن غریب ماں باپ کی ضروریات کو پورا کرنے کی طرف انہیں کبھی تو جو نہیں ہوتی۔ہندوستان میں ہزاروں مثالیں ایسی پائی جاتی ہیں کہ ماں باپ نے بھوکے پیاسے رہ کر اور رات دن محنت کر کے بچوں کو پڑھایا لیکن جب اولا دصاحب علم ہو کر برسر کار ہوئی تو اس نے اپنے ماں باپ کو اپنے برابر بٹھا نا بھی عار سمجھا اور ان کے ساتھ ایسا