دعوت الامیر

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 76 of 397

دعوت الامیر — Page 76

دعوة الامير کے مضمون کے ایک حصے کو عام فہم <mark>الفاظ</mark> میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرما دیا ہے تا کہ ظاہر پرست اور کم فہم لوگ اس آیت کے معانی کو صرف ظاہر پر محمول نہ کریں اور دین اسلام کی حفاظت کے ایک زبر دست ذریعے کو نظر انداز کر کے اپنے لئے اور دوسروں کے لئے ٹھوکر کا موجب نہ ہوں۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ان لوگوں کی بعثت کا وقت جوان مفاسد کی اصلاح کے لئے آویں گے اور جو قرآن کریم کے مطالب اور معانی نہ سمجھنے سے اور کلام الہی سے دور ہو جانے کی وجہ سے پیدا ہوں گے، صدی کا سر ہوگا۔گو یا قرآن کریم کی حفاظت کے لئے قلعوں کی ایسی زنجیر بنادی گئی ہے کہ کبھی بھی اسلام ایسے لوگوں سے خالی نہیں رہ سکتا جو یا تو کسی مجدد کے صحبت یافتہ ہوں یا صحبت یافتوں کے صحبت یافتہ ہوں اور اس طرح وہ خرابی جو دیگر تمام ادیان میں پیدا ہو چکی ہے کہ ان کا مطلب بگڑ کر کچھ کا کچھ ہو گیا ہے اس سے اسلام بالکل <mark>محفوظ</mark> ہے اور وعدے کے مطابق بالکل <mark>محفوظ</mark> رہے گا۔خلاصہ کلام یہ کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ (۱) طبعی یا روحانی ضروریات انسان کی اللہ تعالیٰ ضرور پوری کرتا ہے خصوصاً روحانی ضروریات کو جو بوجہ اپنے وسیع اثر اور بڑی اہمیت کے طبعی ضروریات پر مقدم ہیں اگر اللہ تعالیٰ ایسا نہ کرے تو پیدائش عالم کا فعل لغو ہو جائے۔(۲) یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اس بات کا وعدہ بھی کیا ہے کہ جب بندہ ہدایت کا محتاج ہوگا تو وہ اسے ہدایت دے گا۔(۳) اگر وہ ایسانہ کرے تو بندے کا حق ہے کہ اس کے فعل پر اعتراض کرے (۴) اگر وہ ضرورت کے وقت ہدایت نہ بھیجے اور لوگوں کو سزا دے جو گمراہ ہو گئے ہوں، تو یہ ظلم ہو گا اور خدا ظالم نہیں (۵) مسلمانوں کی اصلاح کے لئے اس قسم کے آدمی ہمیشہ بھیجتے رہنے کا جو مطالب قرآنیہ کی حفاظت کر نے والے ہوں ، خاص طور پر وعدہ