دعوت الامیر — Page 75
دعوة الامير اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ جب الفاظ کی حفاظت کے لئے جو مقصود بالذات نہیں ہیں اللہ تعالیٰ نے اس قدر سامان مہیا کئے تو کیا ممکن ہے کہ وہ معانی کو یونہی چھوڑ دے اور ان کی حفاظت نہ کرے؟ ہر شخص جو عقل و دانش سے کام لینے کا عادی ہے اس سوال کا یہی جواب دے گا کہ نہیں یہ بات ممکن نہیں ہے اگر اللہ تعالیٰ نے ظاہری حفاظت کا سامان کیا ہے تو باطنی حفاظت کا سامان اس سے کہیں زیادہ ہوگا اور یہی بات درست ہے۔آیۃ کریم إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحْفِظُونَ میں دونوں ہی قسم کی حفاظت کا ذکر ہے۔لفظی بھی اور معنوی بھی اور معنوی حفاظت کا سب سے بڑا جزو یہ ہے کہ جب لوگ ہدایت قرآنیہ سے دور ہو جائیں اور قرآن کریم کا نور سمٹ کر الفاظ میں آجائے اور لوگوں کے قلوب اس کے اثر اور تصرف سے خالی رہ جائیں تو اللہ تعالیٰ اپنے پاس سے ایسے سامان پیدا کرے جن کے ذریعے سے اس کے اثر کو پھر قائم کرے اور اس کے معانی کو پھر ظاہر کرے اور ایک قصے کو مرد نی حالت سے نکال کر ایک کامیاب نسخے کی زندگی اور تازگی بخشے۔چنانچہ ان معنوں کی احادیث صحیحہ سے بھی تصدیق ہوتی ہے حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اِنَّ اللهَ يَبْعَثُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ عَلَى رَأْسِ كُلَّ مِائَةِ سَنَةٍ مَنْ يُجَدِّدُ لَهَا دِينَهَا (ابوداؤد کتاب الملاحم باب ما یذکر فی المائة) اللہ تعالٰی اس امت کے لئے ہر صدی کے سر پر ضرور ایسے آدمی کھڑے کرتا رہے گا جو اس کے دین کی اس کے فائدہ اور نفع کے لئے تجدید کرتے رہیں گے۔یہ حدیث در حقیقت إِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ کی تفسیر ہے اور آیت ل وَقَدِ اتَّفَقَ الْحَفِظُ عَلَى تَصْحِيحِ هَذَا الْحَدِيثِ مِنْهُمُ الْحَاكِمُ فِي الْمُسْتَدْرَكِ وَالْبَيْهَقِىٰ فِي المدخل (حجج الكرامة في آثار القيامة مؤلفہ نواب محمد صدیق حسن خان صفحه ۱۳۳ مطبوعہ بھو پال ۱۲۰۹ھ)