دعوت الامیر — Page 73
دعوة الامي نے ہی اس تعلیم کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کریں گے۔اب حفاظت دو قسم کی ہوتی ہے ایک تو حفاظت ظاہری اور ایک حفاظت معنوی۔جب تک دونوں قسم کی حفاظت نہ ہو کوئی چیز محفوظ نہیں کہلا سکتی ، مثلاً اگر ایک پرندے کی کھال اور چونچ اور پاؤں محفوظ کر لئے جائیں اور اس میں بھس بھر کر رکھ لیا جائے تو وہ پرندہ زمانے کے اثر سے محفوظ نہیں کہلائے گا۔اسی طرح اگر اس کی چونچ ٹوٹ جائے، پاؤں شکستہ ہو جائیں ، بال بچ جائیں تو وہ بھی محفوظ نہیں کہلا سکتا، ایک کتاب جس کے اندر لوگوں نے اپنی طرف سے کچھ عبارتیں زائد کر دی ہوں یا اس کی بعض عبارتیں حذف کر دی ہوں یا جس کی زبان مُردہ ہوگئی ہو اور کوئی اس کے سمجھنے کی قابلیت نہ رکھتا ہو، یا جو اس غرض کے پورا کرنے سے قاصر ہوگئی ہو جس کے لئے وہ نازل کی گئی تھی محفوظ نہیں کہلا سکتی، کیونکہ گو اس کے الفاظ محفوظ ہیں مگر اس کے معانی ضائع ہو گئے ہیں اور معانی ہی اصل شے ہیں۔الفاظ کی حفاظت بھی صرف معنی کی حفاظت ہی کے لئے کی جاتی ہے۔پس قرآن کریم کی حفاظت سے مراد اس کے الفاظ اور اس کے مطالب دونوں کی حفاظت ہے۔اس وعدے کے ایک حصے کو پورا کرنے کے یعنی قرآن کریم کی ظاہری حفاظت کے لئے اللہ تعالیٰ نے جو سامان کئے ہیں ان کا مطالعہ انسان کو ورطہ حیرت میں ڈال دیتا ہے جب تک قرآن کریم نازل نہ ہوا تھا، نہ عربی زبان مدون ہوئی تھی ، نہ اس کے قواعد مرتب ہوئے تھے نہ لغت تھی نہ محاورات کا احاطہ کیا گیا تھا، نہ معانی اور بیان کے قواعد کا استخراج کیا گیا تھا اور نہ تحریر کی حفاظت کا سامان ہی کچھ موجود تھا۔مگر قرآن کریم کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ نے مختلف لوگوں کے دلوں میں القاء کر کے ان سب علوم کو مدون کروایا اور صرف قرآن کریم ہی کی حفاظت کے خیال سے علم صرف و نحو اور علم معانی و بیان اور علم تجوید اور علم