دعوت الامیر — Page 72
دعوة الامي نازل کرنے کو ظلم قرار دیتا ہے چنانچہ فرماتا ہے۔يَا مَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنْسِ أَلَمْ يَأْتِكُمْ رُسُلَ مِنْكُمْ يَقْصُوْنَ عَلَيْكُمْ آيَاتِي وَيُنذِرُونَكُمْ لِقَاءَ يَوْمِكُمْ هَذَا قَالُوْا شَهِدْنَا عَلَى أَنفُسِنَا وَغَرَتْهُمُ الْحَيَوةَ الدُّنْيَا وَشَهِدُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ أَنَّهُمْ كَانُوْا كَافِرِيْنَ ذَلِكَ أَنْ لَّمْ يَكُنْ رَبُّكَ مُهْلِكَ الْقُرى بِظُلْمٍ وَأَهْلُهَا غَافِلُوْنَ (الانعام: ۱۳۱-۱۳۲) اے جنوں اور انسانوں کی جماعتو! کیا تمہارے پاس ہمارے رسول نہیں آئے تھے جو تمہیں ہمارے احکام پڑھ پڑھ کر سناتے تھے اور تم پر جو یہ دن آنے والا تھا اس سے تمہیں ڈراتے تھے۔انہوں نے کہا ہم اپنے خلاف آپ گواہی دیتے ہیں اور انہیں ورلی زندگی نے دھوکا دے دیا اور انہوں نے اپنے خلاف آپ گواہی دے دی کہ وہ کافر تھے۔یہ (رسولوں کا بھیجنا اور کفار پر حجت قائم کرنا ) اس لئے کیا کہ تیرا خدا شہروں کو اس حالت میں کہ لوگ غافل تھے، ظالمانہ طور پر ہلاک نہیں کرسکتا تھا۔ان آیات کے مضمون سے معلوم ہوتا ہے کہ بلا ہوشیار کر دینے کے کسی قوم پر حجت قائم کر دینا اور اس کی ہلاکت کا فتویٰ لگا دینا ظلم ہے یا دوسرے لفظوں میں یہ کہ اگر کوئی قوم ہدایت کی محتاج ہو اور اللہ تعالیٰ اس کے لئے ہادی نہ بھیجے، لیکن قیامت کے دن اسے سزا دیدے کہ تم نے کیوں احکام الہی پر عمل نہیں کیا تھا تو یہ ظلم ہوگا اور اللہ تعالیٰ ظالم نہیں ، پس ممکن نہیں کہ لوگ ہدایت کے محتاج ہوں لیکن وہ ان کی ہدایت کا سامان نہ کرے۔پیچھے جو مضمون گزرا اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسلام کی رو سے جب کسی زمانے کے لوگ ہدایت کے محتاج ہوں تو اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کا سامان پیدا کرتا رہتا ہے لیکن قرآن کریم سے ہمیں یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس عام قاعدے کے علاوہ امت محمدیہ سے اس کا ایک خاص وعدہ بھی ہے وہ یہ ہے۔انا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّكْرَ وَإِنَّا لَهُ لَحَفِظُونَ (الحجر: ١٠) ہم