دعوت الامیر — Page 70
(<۔) دعوة الامير خَلَقْنَهُمَا إِلَّا بِالْحَقِّ وَلَكِنَّ أَكْثَرَهُمْ لَا يَعْلَمُوْنَ (الدخان: ۳۹-۴۱) یعنی ہم نے آسمانوں اور زمین کو اور ان دونوں کے درمیان جو کچھ ہے اس کو یوں ہی بلا وجہ بطور کھیل کے نہیں پیدا کیا بلکہ ہم نے اسے غیر متبدل اصول کے ماتحت پیدا کیا ہے لیکن اکثر لوگ اس بات سے ناواقف ہیں۔پس حقیقت یہی ہے کہ جب کبھی بھی بنی نوع انسان کی روحانی حالت گر جاتی ہے اور کسی مصلح کی محتاج ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی طرف سے ایک مصلح بھیج دیتا ہے جولوگوں کو راہ راست کی طرف لاتا ہے اور ان کی اندرونی کمزوری کو دور کرتا ہے۔گو اللہ تعالیٰ کی صفات کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ بات عقلاً بھی ناممکن ہوتی ہے کہ ضرورت کے وقت اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو لاوارث چھوڑ دے مگر اللہ تعالیٰ نے اس مضمون کو قرآن کریم میں صراحتا بھی بیان فرما دیا ہے جیسا کہ فرماتا ہے وَإِنْ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا عِندَنَا خَزَائِنُهُ وَمَا نُنَزِّلَةَ إِلَّا بِقَدَرٍ مَّعْلُومٍ (الحجر: ۲۲) ہر ایک چیز کے خزانے ہمارے پاس ہیں اور ہم اسے نازل نہیں کرتے مگر خاص اندازوں کے ماتحت۔یعنی ہر ایک چیز کو اللہ تعالیٰ ضرورت کے ماتحت نازل کرتا ہے نہ اس کے کام بے حکمت ہیں کہ بلا ضرورت کسی چیز کو ظاہر کرے اور نہ اس کے ہاتھ تنگ ہیں کہ ضرورت پر بھی ظاہر نہ کر سکے۔اور اسی طرح فرماتا ہے وَاتْكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتَمُوْهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تخضوها (الابراهيم:۳۵) یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر وہ چیز جو تم نے مانگی تم کو عنایت کر دی ہے۔اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو گنا چاہو تو گن نہیں سکتے۔اس آیت میں مانگنے سے مراد حقیقی ضرورت ہی ہے۔کیونکہ ہر چیز جسے بندہ مانگتا ہے اسے نہیں مل جاتی ، مگر یہ ضرور ہے کہ ہر ایک حقیقی ضرورت جس کی طرف احتیاج انسان کی فطرت میں رکھی گئی ہے یا ہر احتیاج